دفاعی حکمت عملی کے ایک مسئلہ کے تحت ملک کی سمندری سرحدوں پر قوت کا مظاہرہ کیا گیا۔
ایک سرحدی تنازعہ کی وجہ سے 1962 میں چین اور بھارت کے درمیان ہمالیہ کی بلندیوں پر ایک مختصر جنگ چھڑی تھی۔ پچاس سال گزرنے پر یہ دو ایشیائی طاقتیں اب چین کے جنوبی سمندر (ساؤتھ چائنا سی) میں ایک دوسرے پر نظریں جمائے بیٹھی ہیں۔
جغرافیائی لحاظ سے بھارت، ساؤتھ چائنا سی سے کٹا ہوا ہے، اور دوسری کوئی بحری طاقت چین کی طرح ان پانیوں میں گشت نہیں کر رہی جنہیں چین اپنے گھر کا پچھواڑا سمجھتا ہے۔
تاہم نئی دہلی میں حکام نے عزم کیا ہے کہ وہ آئندہ 20 سال میں اپنی سرحدوں کی بحری طاقت بڑھائیں گے اور اگلے عشرے کے دوران ہی وہ 39 بحری جہازوں کا اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
"ہمارے بحری جہاز، بین الاقوامی پانیوں پر مغرب میں خلیج عدن سے لے کر مشرق میں آبنائے ملاکا تک گشت کریں گے،" بھارتی بحریہ کے چیف، ایڈمرل نرمل ورما نے خبر ساؤتھ ایشیا کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا۔
"چونکہ ہماری معیشت تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے، ہمارے تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے"۔
گزشتہ جولائی چین کی بحریہ نے ایک بھارتی سپاہی بردار بحری جہاز آئی این ایس ایئروات کو ویت نام کے لیے ایک دوستانہ دورے پر روانگی کے دوران روک لیا تھا۔
'آسیان ریجنل فورم کے 'ٹریک ٹو' جز، انٹرنیشنل سٹڈی گروپ آن دی کاؤنسل فار سکیورٹی کواپریشن ان دی ایشیا پیسفک، کے حالیہ نائب چیئرمین اور بھارتی بحریہ کے سابقہ کپتان پرابل کمار گھوش نے کہا کہ، "یہ عمل بھارت کو ویت نام میں اپنے ہائڈروکاربن مفادات سے ہٹانے کے لیے ایک مخصوص حکمت عملی پر مبنی اشارے کے طور پر تھا"۔
ایڈمرل ورما نےکہا کہ دسمبر میں بھارت نے ان دو ممالک کی بحریہ کے درمیان ایک مستقل ٹیلی کمیونیکیشن رابطے پر مبنی نظام قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی، اور ایسی اقدام ماضی میں فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔
بھارت اس علاقے میں تیل کے ذخائر دریافت کرنے والوں میں بھی شامل ہو چکا ہے جہاں 2008 میں یو ایس انرجی انفارمیشن ایجنسی کی ایک چینی مطالعہ کے حوالے سے دی گئی اطلاع کے مطابق ہائڈروکاربن کے ذخائر کم از کم 213 ملین بیرل تیل کی شکل میں تخمیناً موجود ہیں۔ یو ایس جیوگرافکل سروے کے مطابق ثابت شدہ ذخیرہ 28 ملین بیرل تیل اور 266 ٹرلین کیوبک فٹ قدرتی گیس کا ہے۔
مشرقی ویت نام میں دو بلاک بھارت کی سرکاری ایکسپلوریشن کمپنی، او این جی سی ودیش لمٹڈ (او وی ایل) کے زیر انتظام ہیں۔ چین نے ماضی میں غیر ملکی تیل کی کمپنیوں کے ویت نام میں کام کرنے پر اعتراض ظاہر کیا ہے اور کثیر ملکی کمپنیوں ایکسان موبل اور بی پی کو وہاں سے کاروبار بند کرکے نکلنے پر مجبور کر دیا۔
2011 میں چین کی برہمی بھارت پر مرکوز ہوئی۔ آئی این ایس ایئروات کو روکنے کے علاوہ، چین نے اپنے سفارتکاروں کے ذریعے بروز 16 ستمبر بھارت اور ویت نام کو پیغام بھجوائے جن میں مطالبہ کیا گیا کہ او وی ایل اپنا منصوبہ معطل کر دے۔ ویت نام کے صدر ٹروانگ تین سینگ نے اس کے برعکس 13 اکتوبر کو اپنے دہلی دورہ کے دوران بھارت کے ساتھ سکیورٹی پر سالانہ دو طرفہ مذاکرات کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ واقع اسی نوعیت کے ایسے متعدد واقعات میں سے ایک ہے جن کے باعث سال کے آخر تک بھارت چین تعلقات میں نمایاں کشیدگی پیدا ہو گئی۔
دونوں ممالک اپنی اپنی بحریہ پر کثیر رقم خرچ کر رہے ہیں۔ ورما کے مطابق افریقہ اور ایشیا میں اپنے بڑھتے ہوئے اقتصادی رسوخ کو قائم رکھنے کے لیے چین بہت تیزی سے ایک بحری طاقت بنتا جا رہا ہے۔ بھارت بھی اس مقابلے میں شریک ہے۔
ورما کے عہدے پر سابقہ فائز ایڈمرل سریش مہتا نے 2007 میں کہا تھا کہ بھارتی اور چینی بحریہ کی طاقت میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ "اسے ختم کرنا ممکن نہیں۔"
تب سے بھارت نے ایک زوردار تجدیدی مہم کا آغاز کیا ہوا ہے جس میں 2027 تک مختلف قسموں کے 500 ہوائی جہاز اور 150 بحری جہاز اپنے بیڑے میں شامل کرنے اور 2017 سے سالانہ پانچ بحری جہاز تیار کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔
خطرے کی گھنٹیاں بجنے کے باوجود چین اور بھارت کے بہت سے مفادات استحکام کے قیام اور پرامن تعلقات سے وابستہ ہیں۔ آپس کی $60 بلین ڈالر کی دو طرفہ تجارت کے باعث، جس کی 2015 تک 100 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، بہت بھاری معاشی نفع داؤ پر ہے۔
تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے