پاکستان کے صدر اور انڈیا کے وزیراعظم کے درمیان غیر رسمی ملاقات سے ایٹمی ہتھیار رکھنے والے دشمنوں میں موجود سنگین تنازعات حل نہیں ہو گئے مگر یہ طرفہ تعلقات میں پگھلتی ہوئی برف کی ایک اور نشانی ضرور ہے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے لیے گزشتہ ہفتے (آٹھ اپریل) کو انڈیا میں اجمیر شریف کا دورہ، بنیادی طور پر ذاتی سفر تھا۔ وہ تیرھویں صدی عیسوی کے صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی کے مزار پر دعا مانگنے آئے تھے۔
ان کی درگاہ یا مزار پر سارے جنوبی ایشیا سے لاکھوں ہندو اور مسلمان عقیدت مند ہر سال آتے ہیں۔
تاہم، ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کافی عرصے سے موجود دشمنی کو کم کرنے کی حالیہ کوششوں کے باعث، مشاہدین کے لیے یہ بات کسی حیرانگی کا باعث نہیں تھی کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی راہنما سے ملاقات کی اور زرداری کو دعوت دی کہ وہ اجمیر جاتے ہوئے ان کے ساتھ دہلی میں دوپہر کا کھانا کھائیں۔
زرداری نے اس دعوت کو خوشی سے قبول کر لیا اور دونوں راہنماوں نے آپس میں ملاقات کی۔ ان کے درمیان بات چیت کا مرکزی نکتہ تجارت اور دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان تعلقات کے نئے اہداف حاصل کرنے کے بارے میں تھا۔
انڈیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر شاہد ملک نے خبر ساوتھ ایشیا کو بتایا کہ آگلے اقدمات کے بارے میں، بائیس مئی کو دونوں ممالک کی داخلہ وزارتوں کے اعلی حکام کے درمیان ملاقات میں فیصلہ کیا جائے گا۔
ملک نے کہا کہ "اب ہم ویزہ کے زیادہ آزادانہ طریقہ کار، زیادہ اشیا کی تجارت پر ٹیرف کی معافی کی راہ میں حائل رکاوٹیں کم کرنے اور خلافِ معمول شعبوں میں تعاون کے بارے میں بات کر رہے ہیں"۔
وزیر داخلہ پی چیدابرام، پہلی آسان استعمال والی زمینی سرحدی چوکی کا افتتاح پنجاب میں اٹاری واہگہ بارڈر پر اس ہفتے کے آخیر میں کریں گے جس کا مقصد سامانِ تجارت کی نقل و حرکت کو آسان بنانا ہے۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان ویزہ کے لیے دنیا کے سخت ترین قوانین موجود ہیں۔ مگر اب دونوں کے درمیان کئی دفعہ داخلے والے ویزہ کے بارے میں معاہدہ ہونے کے قریب ہے جس کے تحت کسی رپورٹنگ کی ضرورت نہیں ہو گی۔
ملک نے خبر کو بتایا کہ "اس نظام کے پہلے مرحلے میں دونوں ممالک کے کاروباری افراد کو خدمات فراہم کی جائیں گی۔ انہیں ایک سال کے لیے کئی دفعہ داخلے کا ویزہ دیا جائے گا جس میں رپورٹ کرنے کی کوئی شرط نہیں ہو گی۔ آہستہ آہستہ اسے شہریوں کی دوسری اقسام تک بڑھایا جائے گا"۔
خارجہ سیکرٹری رانجن متھائی کے مطابق، نیا رویہ دونوں اطراف کی طرف سے دو طرفہ تجارت قائم کرنے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے جو کہ 2.5 بلین ڈالر سالانہ پر منجمند ہے۔
متھائی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ "انڈیا کو ابھی پاکستان کی طرف سے پسندیدہ ترین ملک قرار دیا جانا باقی ہے۔ جس کے بارے میں امید ہے کہ یہ جلد ہی ہو جائے گا اور اس سے اشیا اور سروسز کے بہاو میں اضافہ ہو جائے گا"۔
سنگھ اور زرداری ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ہمسایہ ممالک کی طرف کیے جانے والے بہت سے سفارتی اقدامات کے بعد امید پیدا ہو گئی ہے کہ برف پگھل رہی ہے۔
ملک نے کہا کہ "وزیراعظم کی طرف سے پاکستان کو ہمالیہ کے سیاچین گلیشیر میں برفانی تودے تلے پھنسے ہوئے فوجیوں کی تلاش میں مدد فراہم کرنا ایک اہم پیش رفت تھی کیونکہ ہماری فوجیں ان بلندیوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جنگ کر رہی ہیں"۔ اسی دوران، انڈیا نے اسی سالہ پاکستانی سائنس دان محمد خلیل چشتی کو رہا کرنے پر رضامندی بھی ظاہر کی ہے جنہیں قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔
یہ حکم جاری کرتے ہوئے جسٹس پی سیتھاسیویم نے کہا کہ "آئیں امید کریں کہ جو کچھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے شروع ہوا ہے وہ جاری رہے۔ ہم نے جو کچھ آج کے اخبار میں پڑھا ہے اس کے مطابق، اچھے کام ہو رہے ہیں"۔
دونوں راہنماوں نے سرحد پار دہشت گردی کے مسلسل جاری مسئلے کا ذکر کر کے بہت سے مبصرین کو حیران کر دیا خصوصی طور پر پاکستان کی طرف سے 2008 میں ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی مبینہ حمایت جس میں ایک سو ساٹھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
خارجہ سیکرٹری متھائی نے کہا کہ "انڈیا چھبیس نومبر کے قتل عام کے بارے میں انصاف حاصل کرنے سے متعلق انڈیا کی توقعات کو پورا کرنے کے سلسلے میں پاکستان کی کارکردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کے بارے میں فیصلہ کرنا جاری رکھے گا۔ اس پس منظر میں، وزیراعظم نے ہماری طرف سے حافظ سید کی گرفتاری اور ان پر مقدمہ چلائے جانے کی درخواستوں کے باوجود ان کی پاکستان میں ذرائع ابلاغ اور لوگوں کے سامنے جاری سرگرمیوں کے بارے میں ذکر کیا"۔
کشمیر کا مسئلہ اس وقت بات چیت میں زیادہ اہمیت حاصل نہیں کر سکا۔ سرحد پار دہشت گردی میں کمی کے باعث، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہونے والے عسکریت پسندوں کی تعداد میں کمی آئی ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ ہی امر کھٹائی میں پڑے امن کے عمل کو دوربارہ سے زندہ کرنے کا باعث بنا ہے۔ یہ بات پاکستان میں انڈیا کے سابقہ ہائی کمشنر ستیندر لامباح نے خبر کو بتائی۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خاردار ترین مسائل پر چھائی بداعتمادی کے باوجود، دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کا ماحول تبدیل ہونے کے واضح آثار موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "انڈیا کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ نئی پاکستانی سوچ جس کی نمائندگی زرداری کرتے ہیں اس بات کی حمایت کرتی ہے کہ انڈیا ہمار سب سے بڑا دشمن ہے کے فقرے کو ختم کر دیا جائے"۔
تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے
قارئین کے تبصرے
s. kantMay 5, 2012 @ 11:05:15AM
پاکستان کو اس بات کا احساس کرنے میں کتنا وقت لگے گا کہ انڈیا اس ملک کا دنیا میں سب سے اچھا دوست ہے، اسے کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا بلکہ اسے ہمیشہ ایک مہذب ملک بنانے کی کوشش کرے گا۔ اس وقت، ہم پریشان ہیں۔
veluMay 4, 2012 @ 02:05:02AM
مجھے اپنے انڈیا سے پیار ہے۔
CHANDRAKANT KOTHARIMay 1, 2012 @ 03:05:52AM
اچھی بات ہے کہ ہم تازہ خبریں پڑھ رہے ہیں مجھے امید ہے کہ ہم تازہ خبریں حاصل کرتے رہیں گے تازہ خبروں سے ہر کسی کو خوشی ہوتی ہے۔
ahmad hasanApril 15, 2012 @ 03:04:09AM
محبت اور جنگ میں ہے چیز جائز ہے۔ اللہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات کو بہتر بنائے۔