صوفی راہنما کے مطابق اسلام تشدد کا درس نہیں دیتا

انڈیا کی باز خیز صوفی تحریک کی ایک نمایاں شخصیت کے مطابق، علاقے میں پھیلی ہوئی انتہاپسندانہ تحریک حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کی طرف سے سکھائے جانے والے بنیادی پیغام کے خلاف ہے۔

نئی دہلی سے خبر ساوتھ ایشیا کے لیے اوداین نیمبودری

اپریل 27, 2012
A زیادہ بڑا | زیادہ چھوٹا | ری سیٹ <span class="translation_missing">ur, articles, print</span> 10 تبصرے

اس ماہ کے آغاز میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی طرف سے اجمیر میں بارہویں صدی کے صوفی بزرگ کے مزار پر حاضری، بہتر ہوتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کے سلسلے میں بہت زیادہ علامتی حثیت رکھتی ہے۔

  • حضرت مولانا سید محمد اشرف صاحب کیچوہاوی انڈیا کے بااثر صوفی راہنماوں میں سے ایک ہیں۔ وہ مسلمان نوجوانوں کو یہ سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کا مذہب امن اور ہم آہنگی سکھاتا ہے۔ ]تصویر بہ شکریہ اوداین نیمبودری/ خبر[

    حضرت مولانا سید محمد اشرف صاحب کیچوہاوی انڈیا کے بااثر صوفی راہنماوں میں سے ایک ہیں۔ وہ مسلمان نوجوانوں کو یہ سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کا مذہب امن اور ہم آہنگی سکھاتا ہے۔ ]تصویر بہ شکریہ اوداین نیمبودری/ خبر[

یہ اس خیال کو بھی تقویت دیتی ہے کہ تَکثیریت اور شمولیت کو منائے جانے کی بنیاد پر بنایا گیا جوابی نظریہ متشدد انتہاپسندی کو شکست دینے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

اس ہفتے، نئی دہلی میں ایک بین الاقوامی اور کثیر فرقاتی میٹنگ منعقد ہوئی جس کا موضوع "صوفی ازم اور انڈین اسلام" تھا۔ اس میں صوفیانہ روایات کو منایا گیا جو انڈیا میں اسلام کا بنیادی جزو ہیں جہاں کہ سترہویں صدی کے مغل بادشاہ اکبر کے دورِ حکومت میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلمان آبادی موجود تھی۔

اس تقریب کے مرکزی مقرر آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ (اے آئی یو ایم بی) کے جنرل سیکرٹری حضرت مولانا سید محمد اشرف صاحب کیچوہاوی تھے جو کہ شمالی ہندوستان کے مسلمانوں میں، جن کی اقتصادی بدحالی نے روایتی طور پر وہاں انتہاپسندوں کو حمایت دلائی ہے، اپنے خاموش مگر پر عزم کام کے باعث بہت عزت رکھتے ہیں۔

کیچوہاوی نے خبر کو بتایا کہ حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کے پیروکاروں کو اسلام کی متشدد اقسام کو نظر انداز کر دینا چاہیے جنہوں نے "ایک طرف تو مسلمانوں اور غیر مسلمانوں اور دوسری طرف خود مسلمان معاشرے میں ایک خلیج پیدا کر دی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "مسلمان عوام کے لیے میرا پیغام یہ ہی ہے کہ وہ دہشت گردوں سے جنگ کرنے کے لیے سیکولر حکومت کے ساتھ تعاون کریں"۔

کیچوہاوی نے کہا کہ اس پیغام کو بہار اور اترپردیش کے لوگوں میں سنا گیا ہے جہاں کہ انڈیا کے اندازاً 178 ملین مسلمانوں میں سے سب سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "کوئی بھی تشدد نہیں چاہتا اور مسلمان اس سے مختلف نہیں ہیں۔ ہندووں نے بھی مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے کیونکہ یہ انڈیا کے ہر باشندے کا قدیم مزاج ہے"۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے سیاسی سائنس دان رفیق قادر کے مطابق جنوبی ایشیا کے دوسرے علاقوں میں بھی صوفیانہ وراثت میں دوبارہ سے دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے خبر کو بتایا کہ "آج کل پاکستان میں صوفی ازم میں دلچسپی بڑھ رہی ہے"۔

قادر نے کہا کہ "گزشتہ بیس سالوں کے دوران پاکستان اور افغانستان پر ایک ہی سمت میں توجہ مرکوز کرنے والا اسلام چھایا رہا ہے جس میں عدم اتفاق کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ ہزاروں تاریخی مقبروں کو طالبان اور القاعدہ نے تباہ کر دیا۔ مگر یہ زیادہ عرصے تک نہیں چلتا"۔

صوفیوں کو اس چیلنج کا سامنا کرنے میں جس چیز نے ترجیح دلائی ہے وہ لاہور میں قائم منہاج القران انٹرنیشنل کے بانی طاہر القادری جیسے سکالرز کی محنت ہے جو کہ دہشت گردی کا مقابلہ انسانیت کے لیے محبت اور خلوص کا درس دے کر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قادری جو کہ ایک سے زیادہ قاتلانہ حملوں میں بچ چکے ہیں، نے جنوری میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن کے عمل کو نہایت ضروری جوش و جذبہ دیا جب انہوں نے انڈیا کے اہم شہروں جیسے کہ وادودارا، احمد آباد، حیدر آباد، اجمیر، ممبئی، رائے پور، بنگلور اور نئی دہلی کا دورہ کیا۔

کیچوہاوی نے کہا کہ " یہ پیغام نچلی سطح تک لے جایا گیا کہ اسلام کو مسخ کیا گیا ہے اور مسلمانوں پر ان کی غلط تشخیص کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ اسلام عالمی امن اور محبت کا مذہب ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کی شمولیت کی سب سے بڑی مثال اجمیر کا مزار ہے جہاں بزرگ آنے والوں کا مذہب جاننے کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔

"ان سے صرف یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ اور اس امر سے بالاتر ہو کر کہ آیا وہ مسلمان ہیں یا ہندو ان کی پریشانیوں کو قبول کیا جاتا ہے"۔

کیچوہاوی نے کہا کہ "اسلام کی مدت (مشن) عالمی امن اور برادری کا قیام ہے۔ اس مشن کو مظبوط بنانے کی ایک بار پھر سخت ضرورت ہے۔ اس وقت سب سے اہم مسئلہ معاشرے میں امن بحال کرنا ہے جو کہ ترقی کے لیے اولین شرط ہے۔ جدید تحریک کا مقصد اس بارے میں بالکل واضح ہے"۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 49)

8 ناپسند

تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے

قارئین کے تبصرے
  • KathreenJune 24, 2012 @ 06:06:13PM

    مجھے ان معلومات کو لازمی ڈھونڈنا تھا، اللہ کا شکر ہے۔

  • md jinnahMay 26, 2012 @ 01:05:42AM

    اسلام امن کا مذہب ہے اور اسلامی بھائی چارہ موجود ہے۔ میں شعیہ ہوں اور پاکستان میں میرے نو سالہ رشتہ دار لڑکے (شعیہ) کو شعیوں پر حملے کے دوران مار دیا گیا۔ وہ بے قصور تھا اور سیاست میں ملوث نہیں تھا اور اس حملے میں اس کے خاندان کے افراد شدید زخمی ہوئے۔ اب سنیوں کی طرف سے اس بے گناہ بچے کی ہلاکت کے بارے میں کیا رائے ہے۔

  • NiranjanMay 23, 2012 @ 06:05:21AM

    دیانت داری سب سے اچھا راستہ ہے

  • dhirendra bistaMay 19, 2012 @ 03:05:26AM

    جنوبی ایشیائی ممالک کا یہ حصہ آسیان ممالک کی طرح بہت زیادہ امیر ہونے کا خواب دیکھتا ہے مگر سارک کا تصور مذہبی،فرقہ ورانہ اور دہشت گردی کے عناصر کی وجہ سے دبا ہوا ہے، اس حصے کے غریب عوام بہت عرصے تک غربت کی سطح سے نیچے رہیں گے، انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث، اللہ بھی مدد نہیں کر سکتا۔ میں یہ نیپال کا شہری ہونے کے ناطے کہہ رہا ہوں۔

  • aavinashMay 17, 2012 @ 10:05:35AM

    یہ بہت حوصلہ افزا ہے

  • abdul aziz khanMay 17, 2012 @ 04:05:21AM

    طالبان اور القائدہ سے قطع نظر عالمی امن تمام مسلمانوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس وقت تک کے ریکارڈ سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو دنیا میں نقصان پہنچائے بغیر ہی سزا مل رہی ہے۔

  • v.prakashMay 15, 2012 @ 04:05:58AM

    تھنتی بہت فائدہ مند خبر ہے۔

  • ahmed rajuMay 12, 2012 @ 08:05:15AM

    یہ اسلام کی بہت اچھی تعلیم ہے۔ ہر لیڈر کو یہ ہی کرنا چاہیے۔

  • RamdaniMay 3, 2012 @ 02:05:46PM

    بہت ہزار گنا اچھا ہے۔ انڈونیشیا میں اب اسلام محفوظ نہیں۔

  • syedbabarashrafApril 28, 2012 @ 06:04:46AM

    یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہر شہری اور سچا ہندوستانی وہابی خطرے کے خلاف اٹھ کھڑا ہو جو ہمارے ملک کے سیکولر اور جمہوری تانے بانے کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ امام کعبہ پٹرول کے ڈالروں کی بھاری مقدار فراہم کر کے وہابی نظریات کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے روایتی اسلام کے پیروکاروں اور ہندوستان کے مرتدوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، صوفی ازم کو انڈیا کے مسلمانوں کی اکثریت مانتی ہے۔ ہمیں مل جل کر اپنی زمین کو وہابی ازم کے خطرے سے محفوظ کرنا ہے۔ حکومتیں انتہاپسندانہ تنظیموں کو پناہ دے رہی ہیں جیسے کہ امام حرم کو وہابیوں کے سب سے بااثر ادارے میں مہمان خصوصی کا درجہ دیا گیا جو کہ لکھنو میں واقع ہے اور جس کا واحد مقصد سعودی-وہابی نظریات کو مظبوط کرنا ہے جو انسانیت کے خلاف ہیں اور دنیا بھر میں ہزاروں معصوم لوگوں کو جہاد کے نام پر ہلاک کرنا ہے جو کہ چھبیس نومبر کو انڈیا پر ہونے والے حملے کے مجرم تھے۔ اگر سیاسی جماعتوں نے بھی سمجھوتہ کر لیا جیسا کہ پاکستان کی حکومت نے ماضی میں کیا ہے تو انڈیا کی سرزمین سے بھی امن چلا جائے گا اور جہاد کے نام پر خون خرابہ شروع ہو جائے گا۔ اس لیے ہر ہندوستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ انڈیا کی زمین پر سعودیوں کی مداخلت کے خلاف آواز اٹھائیں۔

سروے

عوامی غم و غصہ کے بعد، ہندوستانی حکومت نے خواتین کے خلاف متشدد جرائم پر سزاوں کا جائزہ لینے کا وعدہ کیا۔ کیا قانون سازی کے حالیہ اقدامات ان جرائم سے نپٹنے کے لیے کافی ہیں؟.

نتائج دیکھیں

تصویری مضمون

   یہاں، وزیر برائے صنعت و تجارت رشاد باثی الدین (وسط میں) اور روایتی صنعت اور چھوٹے کاروبار کی ترقی کے وزیر ڈگلس دیوآنندا (دائیں جانب) 18 جنوری کو جافنا بین الاقوامی تجارتی میلہ برائے 2013 کا افتتاح کر رہے ہیں، جس کا مقصد اس علاقے میں ہونے والی معاشی بحالی کو تقویت دینا ہے جو ماضی میں میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ ]تصاویر از نیلوپل پیریرا/خبر[

ملک کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی کے منصوبے سری لنکا کی معیشت کے لیے باعث تقویت

سری لنکا میں 2009 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد اس ملک سمیت دیگر ممالک نے ملک کی معیشت اور اس کے بنیادی شہری و ملکی ڈھانچے کو بحال کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ سن 2011 تا 2012 کے دوران سری لنکا کے معاشی نمو کی شرح تمام جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔