شدت پسند گروہ ایسی نوجوان لڑکیوں کو پھسلا کر بھرتی کرنے کے موقع کی تلاش میں ہو سکتا ہے جنہیں باآسانی نشانہ بنایا جا سکے، بھارتی اہلکاروں نے متنبہ کیا۔
اپریل میں جب پولیس نے کولکتہ میں واقع بگویاتی میں ایک مجرمانہ اڈے پر چھاپا مارا تو انہوں نے ممنوع بنگلہ دیشی دہشت گروہ سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے والا ایک مفرور شخص پکڑا۔
پوچھ گچھ کے دوران، حرکت الجہاد الاسلامی (ایچ یو جی آئی) کے اس مبینہ کارکن نے پولیس کو چونکا دینے والی معلومت دیں۔
کولکتہ کے روزنامہ دی سٹیٹسمین میں پیش کردہ اطلاع کے مطابق، ایچ یو جی آئی 15 تا 25 سالہ لڑکیوں کو بھرتی کرنے کے لیے اپنا نشانہ بنانا چاہ رہی ہے۔ اس دعوے کے مطابق انہیں بنگلہ دیش میں تربیت دی جائے گی اور بالآخر بھارت میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
مغربی بنگال انٹیلی جنس بیورو کے چیف اوم پرکاش گپتا نے خبر ساؤتھ ایشیا سے بات کرتے ہوئے اس واقعہ کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ، "اس دہشت گرد گروہ کا منصوبہ ان لڑکیوں کو بنگلہ دیش سے گھرے ہوئے بھارتی سرحدی علاقے سے گزار کر پار لے جانے کا ہے۔"
ملکی تقسیم کے دوران 1947 کو وجود میں آنے والے جغرافیائی طور پر محصور، یہ علاقے بھارت کا حصہ ہیں تاہم بنگلہ دیش سے گھرے ہوئے ہیں۔
"حوجی اس غیر معمولی جغرافیے سے فائدہ اٹھانا چاہ رہی ہے۔ ان کا ارادہ ہے کہ کھاگراباری، دہالہ، دیوتی، اور کاجل دگھی والے محصورہ علاقے استعمال کر کے اپنی نئی بھرتی کردہ عورتوں کو تربیت دیں۔
مغربی بنگال میں واقع باراسات میں تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے کمان دار لالیت کمار نے کہا کہ دہشت گرد مالی منفعت کے وعدے کر کے مقامی غربت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
"حوجی کا ارادہ ہے کہ وہ مسلم اکثریت والے ان محصورہ علاقوں میں اقلیتی برادریوں کے ساتھ ملاقاتیں طے کرے جن کا مقصد رقم کا لالچ دے کر غریب لڑکیوں کو اپنی تنظیم میں بھرتی کرنا ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ، "یہ ضروری نہیں کہ صرف مذہب ہی اس بات کی وجہ بنے۔ در اصل، اس علاقے کی لڑکیاں اتنی غریب ہیں کہ روپیہ ہی سب سے موثر حربہ ثابت ہو سکتا ہے۔"
بنگلہ دیش میں ان الزامات کو بے یقینی کی کیفیت سے دیکھا گیا ہے۔ ریاست کے وزیر برائے امور داخلہ شمس الحق ٹوکو نے خبر سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بنگلہ دیش میں موجود دہشت گرد گروہوں کی حالت اس قابل نہیں ہے کہ وہ لوگ بھرتی کرنے کے لیے مہمیں چلا سکیں۔
"یہاں دہشت گردوں کا بہت حد تک قلع قمع کیا جا چکا ہے،" انہوں نے کہا۔ "ان کے اکثر لیڈروں کو یا تو پھانسی دی جا چکی ہے یا وہ جیل میں ہیں۔ اور جو ابھی تک باہر بھی ہیں وہ بھی اپنے خلاف تیز ہوتی کاروائیوں کی وجہ سے بھاگتے پھر رہے ہیں،" ٹوکو نے خبر کو بتایا۔ تاہم بھارتی حکام کا اصرار ہے کہ یہ بات باعث تشویش ہے۔ نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) کے چیف شرد چندرا سنہا نے کہا کہ، "دہشت گردوں کے عورتوں کو بھرتی کرنے سے متعلق ماضی میں کئی انتباہ موصول ہو چکے ہیں لہاذا ان کو بے پروائی سے نہیں برتا جا سکتا۔"
انہوں نے کہا کہ ممنوع سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (ایس آئی ایم آئی) کے بارے میں یہ بات معلوم تھی کہ اس تنظیم نے ایک "شاہین فورس" بنا رکھی تھی جس کا کام نوجوان اراکین بھرتی کرنا تھا۔
بی ایس ایف کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل، کے سرینیواسن کے مطابق، دہشت گرد گروہوں کے لیے یہ طریقہ کار ایک ظاہر سی کشش رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ، "جب تنظیم کے مرد ارکان سرحد پار سفر کرتے ہیں تو انہیں پوری طرح یہ احساس رہتا ہے کہ ان کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے، مگر زنانہ اراکین کی تلاشی لینے میں یہ بات بہت حد تک کم ہو جاتی ہے۔"
ڈھاکہ کے شہریار شریف اس رپورٹ کی تشکیل میں شامل ہیں۔
تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے