خستہ حال بنگلہ دیشیوں کے لیے، مائیکروفنانس حالات بدلنے والی چیز ہے

مدد کاروبار شروع کرنے والوں کو، جن میں زیادہ تر خواتین ہیں، ایک بہتر زندگی کا خواب پورا کرنے کا حوصلہ دینے میں معاون ہے۔

آر کے چودھری برائے خبر ساؤتھ ایشیاء ڈھاکہ

جون 07, 2012
A زیادہ بڑا | زیادہ چھوٹا | ری سیٹ <span class="translation_missing">ur, articles, print</span> 1 تبصرے

عبدالحق اور اس کی بیوی گولاپی کے لیے، ان کے اپنا کاروبار شروع کرنے میں بہت سی رکاوٹیں تھیں۔

  • عبدالحق اور اس کی بیوی گولاپی، جنہوں نے بی آر اے سی مائیکرو فنانس سکیم سے فائدہ اٹھایا ہے، دھیگھیرچالا، غازی پور ضلع میں اپنی کریانے کی دکان میں مصنوعات فروخت کر رہے ہیں۔ قرضہ لینے سے قبل، انہوں نے روزی روٹی کمانے کے لیے سخت کوشش کی تھی، جس سے ایک کاروبار بھی نہیں چلایا جا سکتا تھا۔ [محمد علی جھلوں/خبر]

    عبدالحق اور اس کی بیوی گولاپی، جنہوں نے بی آر اے سی مائیکرو فنانس سکیم سے فائدہ اٹھایا ہے، دھیگھیرچالا، غازی پور ضلع میں اپنی کریانے کی دکان میں مصنوعات فروخت کر رہے ہیں۔ قرضہ لینے سے قبل، انہوں نے روزی روٹی کمانے کے لیے سخت کوشش کی تھی، جس سے ایک کاروبار بھی نہیں چلایا جا سکتا تھا۔ [محمد علی جھلوں/خبر]

گولاپی نے خبر کو بتایا، "ان [حق] کی عملی طور پر کوئی آمدنی نہیں تھی۔ یہاں تک کہ ہم تین وقت کی روٹی ملنے کی ضمانت بھی نہیں دے سکتے تھے۔" تاہم، اب، یہ جوڑا غازی پور کے نزدیک ایک شہر دھیگھیرچالا میں واقع دو کریانے کی دکانیں چلاتے ہیں۔

ان کے حالات جس چیز نے بدلے وہ تھی بنگلہ دیش دیہی ترقیاتی کمیٹی (بی آر اے سی) کی جانب سے مائیکروفنانس قرضہ۔ اس نے جوڑے کو 5،000 ٹکا (60 ڈالر) کے ساتھ آغاز کرتے ہوئے، اپنی پہلی کریانے کی دکان بنانے کے قابل بنا دیا۔

گولاپی جو کہ کاروبار کی انچارج ہے اور اس کے مالی معاملات کو دیکھتی ہے نے کہا، "اب، ہم اپنی دونوں دکانوں سے ماہانہ 4 لاکھ ٹکا (4،900 ڈالر) مالیت کی مصنوعات بیچتے ہیں۔"

فضل حسن عبید کی جانب سے 1972 میں قائم کردہ، بی آر اے سی دنیا میں سب سے بڑی این جی اوز میں سے ایک ہے۔ اس کے منصوبہ جات میں دیہاتی دستکاریاں، دودھ اور خوراک کی مصنوعات، چائے کے باغات، چکن کے فارم، ہیچریاں اور بینکاری اور گھریلو فنانس کے شعبے شامل ہیں۔ مائیکرو فنانس اب بی آر اے سی کے 34 فیصد سرگرمیوں پر محیط ہے۔

بی آر اے سی کے مطابق غیر منافع تنظیم نے ایشیاء اور افریقہ میں 138 ملین سے زائد لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے، 8.5 ملین خود-روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں، اپنے 66،000 پرائمری سے قبل اور پرائمری سکولوں میں سے 8.1 ملین طلباء کو فارغ التحصیل کیا ہے اور اس کا 44،306 سے زائد لوگوں پر مشتمل عالمی عملہ ہے۔

سات سال قبل، 35 سالہ مورزینہ بیگم بی آر اے سی کے انتہائی غریب لوگوں کے پروگرام کے لیے منتخب ہوئی تھیں جس نے اسے مالی وظیفہ کے ساتھ ویکسین، ادویات اور سالوں تک گائے کی دیکھ بھال کی تربیت فراہم کی۔

پروگرام سے مستفید ہونے والی بننے سے قبل، وہ اور ان کے 45 سالہ خاوند، مفیض الدین، اپنے تین بچوں کو پالنے کی جدوجہد کرتے تھے، جن میں سے کوئی بھی سکول نہیں جاتا تھا۔ اب حالات مختلف ہیں۔

مورزینہ نے کہا، "چھوٹی گائے نے دو سال میں دودھ دینا شروع کر دیا تھا۔ میں نے دودھ اور چابرہ (گائے کے گوبر کے اُپلے) بیچ کر پیسہ کمانا شروع کر دیا۔"

اس ایک گائے نے تین مزید گائیں پیدا کیں اور ان کے خاندان کے مالی حالات کو تبدیل کر دیا۔

مورزینہ نے کہا، "میں دودھ اور چابرہ بیچ کر ماہانہ 10،000 ٹکا (121.82 ڈالر) کما سکتی ہوں۔ میں نے اپنے اہل خانہ کے لیے دو [گھاس پھونس کے] کمرے تعمیر کیے ہیں۔" اس کی 10 سالہ بیٹی نے سکول جانا شروع کر دیا ہے۔

گولاپی اور مورزینہ جیسی لاکھوں خواتین نے بی آر اے سی سے مائیکروفنانس مدد حاصل کی ہے، جس نے جنگ زدہ ملک کو ترقی دینے مں مدد کے جذبے کے ساتھ 1972 میں کام کرنا شروع کیا تھا۔

تاثیر پیدا کرنا

پچھلے 40 سالوں کے دوران، بی آر اے سی نے 5.2 ملین قرض خواہوں میں 98 فیصد رقم واپسی کی شرح سے 8.6 بلین ڈالر تقسیم کیے۔ دسمبر 2011 تک، 'بلا منافع' تنظیم نے 113 ملین لوگوں – زیادہ تر خواتین – کی غریب ختم کرنے کے ارادے سے صحت، تعلیم، اور سماجی اقدامات کے پروگرام بنا کر خدمت کی۔

حکومتی اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2011 میں، بنگلہ دیش میں غربت کی شرح 40 فیصد تھی۔ 1971 میں جب جنوب ایشیائی ملک پاکستان کے خلاف ایک خونریز جدوجہد کے ذریعے ایک آزاد ملک کے طور پر ابھرا، تو شرح 65 فیصد تھی۔

بی آر اے سی نام کا ادارہ بناتے وقت، عبید نے محسوس کیا کہ جنگ زدہ ملک کی حکومت لوگوں کو تنہا غربت کے قابل ملامت چکر سے باہر نہیں نکال پائے گی۔ انہوں نے ان کی صلاحیتوں کو کھولنا شروع کیا، خصوصاً معاشرے کے مرکزی دھارے سے باہر رہنے والی غریب خواتین کی۔

بنگلہ دیش اکنامک ایسوسی ایشن کے سابق صدر، پروفیسر کیو کے احمد نے خبر کو بتایا، "بلاشبہ این جی اوز نے غربت کم کرنے میں نمایاں حصہ ڈالا ہے۔" انہوں نے کہا این جی او کے فعالیت پسند ان کے اپنے خاندانوں میں اپنا مقام بنانے میں خواتین کی مدد کر سکتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں اپنی مائیکروفنانس میں مہارت اور ترقیاتی مسائل کی وجہ سے، BRAC نے اپنی کاروائیاں 12 اضافی ممالک تک وسیع کر دی ہیں: افغانستان (2002)، سری لنکا (2005)، تنزانیہ (2006)، یوگنڈا (2006)، امریکا (2007)، جنوبی سوڈان (2007)، پاکستان (2007)، لیبیا (2008)، سیرالیون (2008)، نیدرلینڈز (2009)، ہیٹی (2010)، اور فلپائن (2012)۔

اس عمل میں، بی آر اے سی پر تجارتی ادارے، جیسے کہ بی آر اے سی بینک اور ڈیلٹا بی آر اے سی ہاؤسنگ فنانس کارپوریشن، چلانے پر تنقید بھی ہوئی ہے۔ مرحوم پروفیسر مظفر احمد نے سنہ 2000 میں بی آر اے سی کے خلاف 'منافع کمانے' والے کاروباری اداروں کی وجہ سے مقدمہ دائر کیا، مگر وہ قانونی جنگ ہار گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ این جی اوز کے منصوبوں کو قائم رکھنے کے لیے ایسے ادارے ضروری ہیں۔

بی آر اے سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب حسین نے خبر کو بتایا، "ہمارے تمام آمدنی پیدا کرنے والے منصوبوں کا مقصد ہمارے غریب کاروباری افراد کے لیے منڈیاں بنانا ہے، کیونکہ منصوبوں کی قیام پذیری کے لیے ضمانت شدہ منڈی شرط اول ہے۔" انہوں نے کہا، "ہمارے بحرانوں کی صورت میں تجارتی ادارے فنڈ مہیا کرنے میں ہماری مدد کریں گے۔"

عبدل اور گولاپی جیسے نیا کاروبار شروع کرنے والے کاروباریوں کا کہنا ہے کہ ان کا تجربہ ایک ثبوت ہے کہ بی آر اے سی کے پروگرام زندگیاں بدلتے ہیں۔ عبدل کا کہنا ہے، اس کے تین بھائیوں نے اب کاروبار میں ان کے ساتھ شمولیت کی ہے اور قسمت بدلنے کے راستے پر گامزن ہیں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 3)

1 ناپسند

تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے

قارئین کے تبصرے
  • YaseminJune 26, 2012 @ 02:06:20AM

    مجھے یقین نہیں ہے کہ آپ کی تنقید کا مایکرو فناس سیکشن درست ہے جس میں میرا خیال ہے کہ فلاح کار اس بات کا جواب دینے کی کوشش نہیں کر رہا کہ اس شعبے کا ایک مکمل اکائی کے طور پر اثر ہو رہا ہے یا نہیں خواہ وہ سیکٹر مایکرو فنانس ہو، ماحولیاتی تبدیلی یا کوئی سے بھی دوسرے سیکٹر جنہیں وہ کور کرتے ہیں۔ اس کی بجائے وہ ایک تنگ سوال کا جواب دے رہے ہیں میں کسی مخصوص علاقے میں کرنا چاہتا ہوں جس میں کہ غیر منافع بخش ادارے اس سیکٹر میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ کسی کو خواہ وہ گیوول ہو یا کوئی اور اس میکرو سوال پر غور کرنا چاہیے کہ کیا سیکٹر ایک اکائی کے طور پر اثر کر رہا ہے۔ میرے خیال میں فلاح کاروں کو اس سوال کے بارے میں سوچنا غیرقانونی نہیں ہے۔ درحقیقت ان کے ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے وہ اسے الگ چھوڑ دینے میں درست ہیں اور اعلی تنظیموں کو مختلف شعبوں میں شناخت کرنے پر توجہ مرکوز کرنے میں۔ اس کے لیے ان کا ماڈل اچھا ہے۔

سروے

عوامی غم و غصہ کے بعد، ہندوستانی حکومت نے خواتین کے خلاف متشدد جرائم پر سزاوں کا جائزہ لینے کا وعدہ کیا۔ کیا قانون سازی کے حالیہ اقدامات ان جرائم سے نپٹنے کے لیے کافی ہیں؟.

نتائج دیکھیں

تصویری مضمون

   یہاں، وزیر برائے صنعت و تجارت رشاد باثی الدین (وسط میں) اور روایتی صنعت اور چھوٹے کاروبار کی ترقی کے وزیر ڈگلس دیوآنندا (دائیں جانب) 18 جنوری کو جافنا بین الاقوامی تجارتی میلہ برائے 2013 کا افتتاح کر رہے ہیں، جس کا مقصد اس علاقے میں ہونے والی معاشی بحالی کو تقویت دینا ہے جو ماضی میں میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ ]تصاویر از نیلوپل پیریرا/خبر[

ملک کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی کے منصوبے سری لنکا کی معیشت کے لیے باعث تقویت

سری لنکا میں 2009 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد اس ملک سمیت دیگر ممالک نے ملک کی معیشت اور اس کے بنیادی شہری و ملکی ڈھانچے کو بحال کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ سن 2011 تا 2012 کے دوران سری لنکا کے معاشی نمو کی شرح تمام جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔