شنہشاہِ غزل نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثقافتی فرق کو مٹایا

مہدی حسن کی موسیقی حریف پڑوسیوں کے درمیان ثقافتی فرق سے ماورا ہے اور اس کا موسیقی کی دنیا پر دیرپا اثر ہو گا۔

نئی دہلی سے خبر ساوتھ ایشیا کے لیے اوداین نیمبودری

جون 19, 2012
A زیادہ بڑا | زیادہ چھوٹا | ری سیٹ <span class="translation_missing">ur, articles, print</span> 23 تبصرے

مہدی حسن کی وفات (جن کی عمر چوراسی سال تھی)، جو کہ ہندوستان کی روایتی موسیقی کے عظیم ترین گلوکاروں میں سے ایک تھے، پر پورے جنوبی ایشیا میں ماتم کیا گیا۔ وہ بدھ (تیرہ جون) کو کراچی میں وفات پا گئے تھے۔ اگرچہ 2002 سے لاحق پھیپھیڑوں کے ایک مرض کے باعث ہمہ جہتی صلاحیتوں والے اس فنکار کے لیے نئی موسیقی ریکارڈ کروانا یا براہ راست فن کا مظاہرہ کرنا مشکل ہو گیا تھا، مگر خراجِ عقیدت کے سیلاب سے ان کے لیے ابھی بھی موجود پسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے جو کہ ملکی اور مذہبی لکیروں کو پار کر گئی ہے۔

شریا گھوشل جو کہ نئی نسل کی ہندوستانی گلوکارہ ہیں، نے خبر ساوتھ ایشیا کو بتایا کہ "میں مہدی حسن کے گانے کیسٹوں اور ڈسکوں پر سنتے ہوئے بڑی ہوئی ہوں۔ اساتذہ انہیں دیوتا کا درجہ دیتے تھے۔ ان کی وفات سے ہم ایک راہنما ستارے سے محروم ہو گئے ہیں"۔

گلوکارہ لتا منگیشکر نے ہندوستانی پبلک براڈکاسٹر، دوردرشن کو بتایا کہ "مہدی حسن کی آواز بھگوان کی آواز ہے"۔

مرحوم موسیقار اس مشترکہ ثقافتی وراثت کی نمائندگی کرتے تھے جو انڈیا اور پاکستان کو دوسرے شعبوں میں ان کے اختلافات کے باوجود، ابھی بھی جوڑے ہوئے ہے۔ اکانوے سالہ کلاسیکل اور مشہور گلوکار مانا دے کے مطابق، اس مماثلت نے دونوں جنوبی ایشیائی ہمسائیوں کے درمیان مسلسل جاری کشیدگی کو متوازن کرنے میں مدد دی ہے۔

"مہدی حسن نے دونوں ممالک کے سیاست دانوں میں سمجھ بوجھ کو قائم رکھنے میں مدد فراہم کی ہے۔ دونوں ممالک کے یکے بعد دیگرے سربراہوں کو عوامی مطالبے پر دونوں جدا جدا ممالک میں ثقافت کے آزادانہ بہاو کی اجازت دینے پر مجبور ہونا پڑا"۔

بحیرہ عرب کے جنوبی شہر کوزیکوڈ میں ہزاروں پرستار جمعرات کو جلدی میں منعقد کی گئی دعائیہ تقریب کے لیے جمع ہوئے۔ ایک مقامی سیاست دان پی وی عبدل وہاب نے آئی بی این لائیو کو بتایا کہ مرحوم گلوکار نے اپنے فن کا آخری بار عوامی طور پر مظاہرہ اس جگہ پر ہی کیا تھا۔

"یہ 2000 میں ہوا تھا جب وہ اپنی بیماری کے علاج کے لیے یہاں آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نوے منٹ سے زیادہ وقت تک گانا گایا تھا اور وہ ہجوم کے جوش جذبے سے اس قدر متاثر ہوئے تھے کہ انہوں نے صحت یاب ہو کر دوبارہ یہاں آنے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر ظاہر ہے ایسا نہیں ہو سکا"۔

مغلوں کے دور سے چلی آ رہی روایت

ہندوستان کی کلاسیکی موسیقی مغل حکمرانوں کے دور میں پھلی پھولی تھی جنہوں نے برطانیہ کے قبضے سے پہلے تک برصغیر پر چار صدیوں تک حکومت کی تھی۔ شمالی انڈیا کے ہر علاقے یہاں تک کہ چھوٹے قصبوں نے بھی اس فن کی اپنی منفرد قسم تیار کی تھی۔ مہدی حسن جو کہ راجھستان میں 1927 میں پیدا ہوئے تھے، غزل گانے کے انداز "دھرپد" کے آخری گلوکار تھے۔

غزل عمومی طور پر محبت، جدائی کی تکلیف کے اظہار یا عشقیہ یادوں کے بارے میں ہوتی ہے۔ اسی بنیادی وجہ سے غزل کی بنیاد پر تیار کیا جانے والا مقبول عام میوزک بہت جلد ہی ہندوستانی فلموں کا ایک لازم حصہ بن گیا۔ انڈیا کے فلمی ستارے اور مہدی حسن کے پرستار انوپم کھیر نے خبر کو بتایا کہ "بالی وڈ کے بہت سے انتہائی مقبول ہونے والے گانے غزل پر بنیاد رکھتے ہیں"۔

مذہبی بنیادوں پر 1947 میں برصغیر کی تقسیم سے نہ صرف کئی کروڑ عام ہندو اور مسلمان ہی در بدر نہیں ہوئے بلکہ بہت سے موسیقار بھی اس کا نشانہ بنے جو کہ ہندوستانی میوزک پر زندگی گزار رہے تھے۔ دہلی یونیورسٹی میں موسیقی کی تاریخ کے ڈین آر کے پنڈت نے کہا کہ " سرپرستی شہزادوں، زمینیں رکھنے والے اعلی طبقے اور چھوٹے چھوٹے جاگیرداروں کی طرف سے ہوتی تھی۔ مگر جمہوریت کے آ جانے کے بعد، بہت سے گھرانوں (موسیقی کے منفرد طبقوں) کو ختم ہونے پر مجبور ہونا پڑا"۔

مہدی حسن غزل گانے والے دوسرے موسیقاروں کے ساتھ کراچی منتقل ہو گئے۔ اس نئے ملک کے ابتدائی دنوں میں انہیں گزر اوقات کے لیے گاڑیوں کے مکینک کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ تاہم، بعد میں انہوں نے پاکستان کی فلمی صنعت کے باعث اپنے حالات کو بہتر بنا لیا۔ ان کی سریلی آواز کو انڈیا پہنچنے پر زیادہ وقت نہیں لگا۔

ایک جاری تعلق

موسیقی کی متحد کرنے کی صلاحیت جب کہ دوسرے تفریق پیدا کر رہے ہوں، انڈیا اور پاکستان کی سرحدوں کے دونوں طرف ابھی تک قوی ہے۔ دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے بہت سے نئے موسیقاروں نے ان جذبات کا شکار ہونے سے اجتناب کیا ہے جن کے باعث تین بڑی جنگیں لڑی گئی ہیں اور متنازعہ علاقے کشمیر میں تنازعہ ابھی بھی جاری ہے۔

ہتھیاروں کی دوڑ، نیوکلیائی کشیدگی، تجارتی پابندیوں اور کرکٹ کے میچوں پر پابندی کے باوجود، ہر سال کئی درجن ہندوستانی اور پاکستانی گلوکار موسیقی کے اجتماعات میں شرکت کرنے کے لیے سرحد پار کرتے ہیں۔

مارچ 2010 میں دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے اکتیس بچوں نے، اجمیر، راجھستان میں تیرھویں صدی کے صوفی بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے مزار پر صوفیانہ گانوں کا ایک اجلاس کیا جسے کافی زیادہ مشہوری حاصل ہوئی تھی۔

اس ثقافتی تعلق کا سب سے زیادہ فائدہ بالی وڈ کو حاصل ہوتا ہے۔ کسی بھی وقت، پاکستان سے تعلق رکھنے والے گلوکار، موسیقار اور کمپوزر انڈیا کے ہالی وڈ میں نئے کاروباری مواقع پیدا کر رہے ہوتے ہیں اور ان پدوسی (ہمسایہ) فنکاروں کی طرف سے ہر سال ہزاروں مشہور نغمے ریکارڈ کروائے جاتے ہیں۔

انڈیا کی فلمی صنعت کا مالی طور پر مضبوط ہونا بھی اس سلسلے میں ایک اہم عنصر رہا ہے۔ نئی نسل کے گلوکار عاطف اسلام نے خبر کے بتایا کہ "اس کی وجہ بہت واضح ہے، انڈیا میں موسیقی کی ایک پھلتی پھولتی صنعت موجود ہے جسے کہ فلموں کا سہارا حاصل ہے۔ پاکستان میں اس چیز کی کمی ہے"۔

ہندوستانی اس کا برا نہیں مانتے۔ فلمی ستارے خیر نے اخبار کو بتایا کہ "بالی وڈ کے دروازے باصلاحیت لوگوں کے لیے کھلے ہیں اور فنکار کی شہریت اہمیت نہیں رکھتی ہے۔ ہم پاکستانیوں کے خلاف متعصب خیالات نہیں رکھتے ہیں"۔

اس کا سب سے نمایاں ثبوت عدنان سمیع ہیں۔ اس برطانوی نژاد پاکستانی گلوکار نے ابھی تک 66 ہندوستانی فلموں کے لیے نغمے ریکارڈ کروائے ہیں جن میں سے دس کمپوزر کے طور پر تھے۔ 2003 میں ان کا نغمہ "کبھی تو نظر ملاو" کی دو ملین ڈسکیں فروخت ہوئی تھیں جو کہ ہندوستان میں ایک ریکارڈ ہے۔ ہفتہ میں چار دن سمیع کو "سارے گا ما پا" پر دیکھا جا سکتا ہے جو کہ ٹی وی کا سب سے زیادہ مشہور ریلیٹی شو ہے اور جس میں نئے ابھرتے ہوئے فنکاروں کو دکھایا جاتا ہے۔

خیر نے کہا کہ "بہت سے ہندوستانی اس بات سے بھی آگاہ نہیں ہیں کہ عدنان غیر ملکی ہیں یا پاکستانی ہیں اور یہ ہندوستانی موسیقی کے لیے ایک فتح ہے"۔

مہدی حسن اگرچہ فوت ہو گئے ہیں مگر انہوں نے ہندوستانی اور پاکستانی سیاست دانوں کو جن دروازوں کو کھولنے پر مجبور کیا ہو سکتا ہے کہ کبھی بھی بند نہ ہوں۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 63)

8 ناپسند

تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے

قارئین کے تبصرے
  • Labloo SarcarAugust 14, 2012 @ 12:08:18AM

    بہت اچھا بنگلہ چینل ہے اور بنگالی نیتوک اور فلموں اور گانوں کو دیکھنا بہت اچھا لگتا ہے۔

  • nagendramAugust 11, 2012 @ 12:08:20AM

    میں غزلوں کا عاشق ہوں۔ ان کو کھونا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان جیسا گلوکار کبھی کبھی ہی ملتا ہے۔ ان کی روح امن میں رہے۔

  • mushtaq malikAugust 9, 2012 @ 01:08:13AM

    مہدی حسن کے بارے میں مضمون بہت معلوماتی تھا۔ اسے اپ لوڈ کرنے پر شکریہ۔ غمزدہ خاندان سے ہماری دلی تعزیت ہے۔

  • Ahsan AliAugust 4, 2012 @ 05:08:40PM

    مجھے مہدی حسن سے بہت زیادہ پیار ہے

  • Pradeep kumarAugust 2, 2012 @ 05:08:37AM

    غزل بہت عمدہ گانا ہے

  • ASM Mohibur RahmanJuly 31, 2012 @ 04:07:09AM

    مجھے موسیقی پسند ہے، اس لیے مجھے مہدی حسن پسند ہیں۔ مہدی حسن میرے سب سے زیادہ پسندیدہ غزل گلوکاروں میں سے ایک ہیں اور مجھے ان کی سب تخلیقات پسند ہیں۔ مہدی حسن، غزل کے شہنشاہ، ہر کسی میں سے بہترین ہیں اور سب سے زیادہ جدید اور ہر کسی کے لیے ہیں، نوجوانوں کے لیے اور بوڑھوں کے لیے، یہ سدابہار روح کبھی بھی نہیں مرے گی موسیقی کی سلطنت میں۔ مہدی حسن کا مطلب ہے اللہ کی آواز کی گونج۔ اللہ نے انہیں غزل کے شہنشاہ کے طور پر پیدا کیا تھا۔ اس لیے انہوں نے ایسا ہی کیا تھا۔ اللہ انہیں جنت میں جگہ دے۔

  • haneefJuly 29, 2012 @ 02:07:27PM

    بہت اچھا

  • SHEBLYJuly 29, 2012 @ 10:07:44AM

    مجھے مہدی حسن سے پیار ہے

  • nazrulJuly 27, 2012 @ 10:07:30AM

    بہت اچھا

  • ENGR. MD. FARIDJuly 25, 2012 @ 11:07:02AM

    اس دنیا میں آنے والے غزل کے سب سے عمدہ گائک۔ ان کی آواز میں ہمیں پیدا کرنے والے کا احساس ملتا ہے۔ وہ ہمارے دلوں میں رہیں گے خصوصی طور پر گانے سے پیار کرنے والوں کے دلوں میں خاص طور پر برصغیر کے غزل سے پیار کرنے والوں کے دلوں میں۔

  • SYED GONI HAIDER MAMUNJuly 24, 2012 @ 02:07:01AM

    مہدی حسن، شنہشاہ غزل، مجھے وہ بہت زیادہ پسند ہیں اور میں ان کا بہت زیادہ مداح ہوں۔ ہمیں ان کی بے وقت موت کا بہت افسوس ہوا اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں جنت میں جگہ دے۔

  • mostafizurJuly 24, 2012 @ 01:07:44AM

    میرا پسندیدہ گانا۔

  • zanyJuly 23, 2012 @ 03:07:46PM

    میرے خیال میں اس صفحے کو جاننا عمدہ ہے۔

  • sporsho_emonJuly 21, 2012 @ 09:07:59PM

    مجھے مہدی حسن واقعی بہت پسند ہیں

  • arunabh raturiJuly 20, 2012 @ 06:07:51AM

    عمدہ غزلیں

  • Arifur RahmanJuly 18, 2012 @ 09:07:16PM

    سوپر ہیرو

  • samadtalukderffJuly 17, 2012 @ 04:07:15AM

    مجھے گانوں سے پیار ہے اس لیے مجھے مہدی حسن پسند ہیں

  • hashimJuly 11, 2012 @ 12:07:43AM

    main ap ne allha se dua karta ho ki ap ko jannat nasib ho ( aamin )....

  • SWORNA SHAHJuly 9, 2012 @ 01:07:36AM

    میرے بہترین غزل کاروں میں مہدی حسن ایک ہیں مجھے ان کی سب تخلیقات پسند ہیں۔

  • Md. Khoorshid AlamJuly 8, 2012 @ 02:07:35AM

    مہدی حسن کا مطلب ہے اللہ کی گونجتی آواز۔ اللہ نے انہیں غزل کے شہنشاہ کے طور پر بنایا تھا۔ اس لیے انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ انہیں جنت میں جگہ دے۔

  • MD. Shaheedul ImranJuly 6, 2012 @ 02:07:33AM

    مہدی حسن، شہنشاہِ غزل، عظیم ترین، تازہ ترین اور ہرابھرا نوجوانوں اور بوڑھوں کا دل موسیقی کی دنیا میں کبھی نہیں مر سکتا۔ پاکستانی قوم دنیا کی بہادر ترین قوم ہے اور بہت زیادہ خوش قسمت جو کہ نور جہاں اور عظیم مہدی حسن جیسے دو گلوکاروں کی مالک ہے مگر آج کل وہ سیاسی ڈکیتی کا شکار ہیں، ان کے سیاست دان"تباہ کر دینے والے" ہیں۔

  • Mahfujul HassanJuly 1, 2012 @ 04:07:56AM

    مجھے مہدی حسن بہت زیادہ پسند ہیں اور میں اس شخص کا بہت زیادہ مداح ہوں۔ ہمیں ان کی ناگہانی پر بہت زیادہ دکھ پہنچا ہے اور ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے۔

  • tarek khanJune 23, 2012 @ 05:06:52PM

    پسندیدہ ہیرو

سروے

معروف عالم مولانا وحید الدین کے مطابق، "انتہا پسندی اسلام میں قابلِ قبول نہیں"۔ آپ کے خیال میں کیا مسلم علماء نے اہل ایمان کو اسلامی نظریے کے حقیقی رُخ کی تعلیم دینے کے لیے مناسب اقدامات کیے ہیں؟

نتائج دیکھیں

تصویری مضمون

   یہاں، وزیر برائے صنعت و تجارت رشاد باثی الدین (وسط میں) اور روایتی صنعت اور چھوٹے کاروبار کی ترقی کے وزیر ڈگلس دیوآنندا (دائیں جانب) 18 جنوری کو جافنا بین الاقوامی تجارتی میلہ برائے 2013 کا افتتاح کر رہے ہیں، جس کا مقصد اس علاقے میں ہونے والی معاشی بحالی کو تقویت دینا ہے جو ماضی میں میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ ]تصاویر از نیلوپل پیریرا/خبر[

ملک کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی کے منصوبے سری لنکا کی معیشت کے لیے باعث تقویت

سری لنکا میں 2009 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد اس ملک سمیت دیگر ممالک نے ملک کی معیشت اور اس کے بنیادی شہری و ملکی ڈھانچے کو بحال کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ سن 2011 تا 2012 کے دوران سری لنکا کے معاشی نمو کی شرح تمام جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔