پشتو موسیقی کی اسٹار، جنہیں پیر کو بظاہر گھریلو جھگڑے کے نتیجے میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا، نے طالبان کی پرواہ نہ کی اور بنیاد پرستی سے منتفر نوجوانوں کے لیے ایک علامت بن کر ابھریں۔
پرستار اس ہفتے مرحوم گلوکارہ کی موت کا غم مناتے ہوئے یاد کرتے ہیں کہ غزالہ جاوید طالبان کے ہراساں کیے جانے اور خاوند کے دباؤ کے خلاف ڈٹ گئیں، جس نے انہیں گانے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ اپنے آٹھ سالہ کیرئیر میں 29 سالہ غزالہ کو "پشتو موسیقی کی کوئل" سمجھا جانے لگا تھا۔
وہ اور ان کے والد کو پیر (18 جون) کو پشاور، پاکستان میں اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ بیوٹی پارلر جانے کے لیے نکل رہی تھیں۔ ان کی بہن فرحت خطرے سے بھاگ نکلیں تھیں، جب دو موٹر سائیکل سوار مسلح اشخاص نے ان کے خاندان پر فائرنگ کر دی۔
پاکستان سے میڈیا کی اطلاعات کے مطابق، پولیس والے اپنی تفتیش غزالہ کے برگشتہ خاوند جہانگیر خان اور اس کے دو دوستوں ناصر اور سلمان خان پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ تینوں ہی لا پتا ہیں۔
میڈیا اطلاعات نے ان کے والد کے حوالے سے بتایا تھا، "ان کے خاوند نے انہیں گانے سے روکا، جس نے انہیں بے تحاشا غمگین کر دیا"۔ "وہ کہا کرتی تھیں کہ موسیقی ان کا جذبہ ہے اور وہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں۔"
تاہم موسیقی کو طالبان کے ہاں غیر اسلامی بھی سمجھا جاتا ہے، جن کا غزالہ کی آبائی وادیِ سوات میں بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ 2009 میں ایک اور مقبول گلوکارہ ایمن اُداس کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ یہ قتل ہنوز حل طلب ہے، تاہم بڑے پیمانے پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے "قدامت پرست گروہ" تھے۔
پاکستانی موسیقی کی نقاد شہلا پروین نے خبر ساؤتھ ایشیا کو کراچی سے بتایا، "یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ غزالہ کا قتل طالبان کا کارنامہ ہے"۔ "وہ طلاق کے ابتر عمل سے گزر رہی تھیں اور یہ شمال مغربی خطے کے آدمیوں میں عام ہے کہ وہ گھریلوں جھگڑے میں قتل کے ذریعے حساب برابر کرتے ہیں"۔
"تاہم ایک چیز یقینی ہے۔ غزالہ جاوید اور ایمن اُداس کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے ایک اور گلوکارہ کے سامنے آنے میں لمبا عرصہ لگ جائے گا۔ لوگ اپنی بیٹیوں کو بنیاد پرستوں کے قہر کے سامنے لانے سے ڈرتے رہیں گے، جن کے ہاں موسیقی پر عمومی طور پر اور خاتون فنکاراؤں پر خصوصی طور پر مسلسل پابندی موجود ہے۔"
خبر کو ایک ای میل میں لندن سے تعلق رکھنے والے پشتو ماہر نواب خان نے گلوکارہ کی بہادری کی تعریف کی۔
"غزالہ نے طالبان کی رِٹ کو للکارا اور ان کی مقبولیت متحدہ عرب امارات سے بھارت تک پھیل گئی۔ وہ جرأت کی نشانی تھیں چونکہ ان کو پہلے ہی بہت سے خطرات لاحق تھے،" انہوں نے کہا۔
غزالہ کی علاقائی اہمیت و کشش کو 2009 میں تسلیم کیا گیا، جب انہوں نے دی ٹائمز آف انڈیا گروپ کی جانب سے ایک ایوارڈ وصول کیا۔ اگرچہ وہ پشتو میں گاتی تھیں، جو پاکستان کی سرحدوں میں سمجھی جانے والی ایک زبان ہے، لیکن ان کی موسیقی اور شخصیت نے حدیں عبور کر لیں۔
دریں اثناء، وطن میں وہ بنیاد پرستی سے متنفر نوجوانوں کے لیے امید کی ایک علامت بن کر ابھریں۔
موسیقی کی نقاد پروین نے کہا، "انہوں نے شمال مغربی صوبے میں بڑی تعداد میں دوسرے نوجوان گلوکاروں، خصوصاً گلوکاراؤں، کو متاثر کیا جہاں بنیاد پرست انہیں مستقل طور پر ہراساں کر رہے تھے"۔
2007 میں جب طالبان نے وادیِ سوات میں اپنا اثر و رسوخ پھیلانا شروع کیا، جس کا نقطہ عروج 2009 میں فوجی انداز میں دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں نکلا، تو غزالہ قریبی شہر پشاور بھاگ آئیں، جو پاکستان کی افغانستان سے منسلک شمال مغربی سرحد کے قریب ایک شہر ہے۔
پروین نے خبر کو بتایا، "انہوں نے اپنے ایذا رسانوں کو تکلیف نہیں دی۔ وہ اپنی موسیقی دوبئی میں ریکارڈ کرواتیں اور ان کے البم بہت زیادہ مقبول ہوتے تھے۔ "
غزالہ کی موت کی خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، پاکستان میں فنکاروں کی تنظیم کے سربراہ نے قسم کھائی کہ ملک کے موسیقار اور تفریح مہیا کرنے والے ایسے واقعات سے نہیں ڈریں گے، نا ہی وہ انتہا پسندوں کے پیدا کردہ دباؤ سے باز آئیں گے۔
آرٹسٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن زوم کے صدر جاوید بابر نے کہا، "ہم عرصہ دراز سے طالبان کے قہر کا سامنا کر رہے ہیں"۔ "لیکن ہم لوگوں کو تفریح مہیا کرنے کے لیے پرعزم ہیں"۔
تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے
قارئین کے تبصرے
Jehan Sher YusufzaiJune 27, 2012 @ 01:06:58PM
یہ ایک تحقیقاتی خبر ہے۔ جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ زبردست ہیں۔ میں نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اسے سوات کی سٹار اور گانے والی بلبل پر ایک اصلی اور عقل سے بھری ہوئی خبر کے طور پر تسلیم کرتا ہوں۔