اگرچہ پاکستان ایک مسلمان ملک ہے، تاہم اس کے اور بدھ مت اکثریت پر مشتمل سری لنکا کے تہذیبی اور تاریخی ورثے میں ایک قدر مشترک ہے۔
کولمبو کی باسی آریاوتھی، سالہا سال سے پاکستان کو صرف ایک مسلمان ریاست کے طور پر جانتی تھیں جس کی ان کے نزدیک بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے کوئی خاص اہمیت نہ تھی۔
تاہم کانڈی میں واقع مقدس مندر، سری دلادا مالیگاوا، کے نئے بین الاقوامی بدھ مت سے متعلق عجائب گھر کو دیکھنے کے بعد ان کا یہ تصور بدل گیا۔ ایک سال قبل بنے اس عجائب گھر میں 16 مختلف ممالک سے بھیجے گئے نوادرات نمائش کے لیے رکھے ہیں، اور ان ممالک کی فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے۔
آریاوتھی نے جو کچھ دیکھا اس نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔
"میں نے اپنے سکول کے ایام میں لومبینی میں واقع بدھا کی جائے پیدائش کے بارے سیکھا تھا اور دوسرے علاقوں کے بارے میں پڑھا تھا جن کا تعلق ان کی ہندوستان کی زندگی کے مختلف سنگ میل سے ہے،" 60 سالہ آریاوتھی نے خبر ساؤتھ ایشیا کو بتایا۔ "مگر مجھے یہ بالکل نہیں معلوم تھا کہ پاکستان میں بھی بدھ مت کے پیروکاروں کی قابل فخر تاریخ موجود ہے۔ اس کے بارے میں جان کر کے مجھے خوشی ہوئی۔ ہمیں یہ بات اپنے بچوں کو بتانی چاہیے۔"
پاکستان اور سری لنکا کی حکومتیں ان دو ممالک کے مشترکہ ثقافتی ورثے کی بنیاد پر تعلق قائم کرنے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اظہار کر رہی ہیں۔ گزشتہ سال جب سری لنکا میں بدھا کی روشنی کا 2,600 سالہ جشن منایا جا رہا تھا تو حکومت پاکستان کی طرف سے مقدس صحائف کا ایک مجموعہ بھیجا گیا۔ اس کی 2011 میں نمائش رکھی گئی تھی جس کے بعد اسے واپس پاکستان لے جایا گیا۔
اب کولمبو میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن اس سلسلے میں قدم اٹھا رہا ہے کہ کلیدی نوادرات کی نقلیں بھیجی جائیں جنہیں مستقل طور پر کانڈی کے عجائب گھر میں رکھا جا سکے۔
"پاکستان نے یہ انمول ثقافتی اثاثے سری لنکا کو بطور تحفہ دیے ہیں،" سری دلادا ملیگاوا عجائب گھر کے نگران پردیپ نلانگا دیلا نے خبر کو بتایا۔ "جس عجائب گھر میں ان اشیا کو رکھا جا رہا ہے وہ ایک اہم عجائب گھر ہے۔ یہاں لوگوں کو دکھایا جاتا ہے کہ بدھ مت کا آغاز کیسے ہوا اور یہ مختلف ممالک میں کیسے پھیلا۔"
دیلا نے بتایا کہ ہائی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان سے اس عجائب گھر کو مزید کچھ نوادرات عطیہ کرنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں، جس کا عجائب گھر والوں کو شوق سے انتظار ہے۔ ان عطیہ کردہ ثقافتی اثاثوں میں سے اکثر گندھارا کے علاقے سے ہیں جو موجودہ پشاور کے نزدیک واقع ہے۔ کسی زمانے میں یہ علاقہ ایک پھلتی پھولتی تہذیب کا گہوارہ ہوا کرتا تھا جس میں بدھ مت اور یونانی و رومی اثرات کا امتزاج پایا جاتا تھا۔
سری لنکا کے وزیر برائے ثقافتی امور، ٹی بی ایکانایکا نے کہا کہ ثقافتی اثاثوں کے یہ عطیات، ان دو ممالک کے درمیان ایک لمبے عرصے سے موجود ثقافتی، مذہبی، سیاسی اور معاشی تعلق کا ایک معنی خیز اظہار ہیں۔
"اس میں آثار قدیمہ سے متعلق انمول قدروقیمت پائی جاتی ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے اس کی بدھ مت سے متعلق ثقافت کو دی جانے والی اہمیت کو ہم بہت سراہتے ہیں،" انہوں نے کہا۔
کولمبو کے ایک ممتاز سکول میں بطور معلم کام کرنے والے ایک بدھ راہب، یالویلا پناسیکارا تھیرا نے کہا کہ بچوں کے لیے اس علاقے کے ممالک کے ساتھ پائے جانے والے ثقافتی تعلقات کے بارے میں جاننا اہم ہے۔
"اب دنیا کے ممالک عالمگیر رشتے میں جڑتے جا رہے ہیں،" تھیرا نے کہا۔ "لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رہنا چاہیے۔ اپنے مشترکہ ورثوں کے بارے میں جاننا ان کے لیے بہتر ہے۔"
کولمبو کے ایک مسلمان تاجر، ایم فواض کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان دو ممالک کے مابین ان کی مشترکہ وراثت کی بنیاد پر ثقافتی رشتوں کا قیام ایک مثبت قدم ہو گا۔
"عام آدمی کے ذہن میں پاکستان کا تصور کرکٹ سے جڑا ہوا ہے۔ کرکٹ کے کھیل سے بڑھ کر بھی کچھ موجود ہے۔ ثقافت کے باعث ہم ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں،" انہوں نے کہا۔
تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے
قارئین کے تبصرے
GaminiJuly 13, 2012 @ 07:07:30AM
پاکستان کا شکریہ۔