بڑے بڑے وعدے پورے کرنے میں ناکامی کی قیمت مقامی حمایت سے محرومی کی شکل میں ادا کرتے ہوئے، حزب المجاہدین اب تازہ دم بھرتی اور سرمایہ حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔
گزشتہ ماہ کے شروع میں، انصاف سے اپنے واضح استثناء کا ڈھِٹائی سے مظاہرہ کرتے ہوئے، راولپنڈی، پاکستان میں ایک عوامی ریلی میں حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین نے تازہ دم بھرتی اور سرمائے کی اپیل کی۔
ریلی جسے "شہداء کانفرنس" کا نام دیا گیا تھا، اور یہ گیریژن ٹاؤن کے سوان اڈہ کے علاقے میں منعقد ہوئی، کا انتظام حزب المجاہدین سے علیحدہ ہوئے ایک حصے البدر مجاہدین کی جانب سے کیا گیا تھا۔
صلاح الدین نے اپنی جانی پہچانی گھن گرج والی آواز میں کہا، "ہم کشمیر میں لڑ رہے ہیں۔ اگر ہم پر دہشت گرد ہونے کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے تو ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔"
ایسا فنِ نمائش طویل عرصے سے صلاح الدین کی نشانی رہی ہے، مگر کیا اس کا کوئی جواب بھی آتا ہے یہ ایک دوسرا سوال ہے۔ 87-1986 سے لے کر اب حالات بدل گئے ہیں، جب وہ اپنی .303 کی رائفل لہرایا کرتا تھا اور سرینگر میں نوجوان حمایتیوں کے ساتھ مل کر نعرے لگانے کے لیے منی بسوں کی چھتوں پر چڑھا کرتا تھا۔
سنہ 2009 کے آغاز سے، حزب المجاہدین نے زوال کے صریح اشارے دینے شروع کر دیئے ہیں۔ اس کی تشدد کو ہوا دینے کی کوششیں خال خال اور بے تاثیر ہو گئی ہیں۔ اس کی عسکری تنظیم مختصر ہو گئی ہے اور اس کا سرمایہ ختم ہو گیا ہے۔ دریں اثناء، نوجوان نسل جو پہلے حزب المجاہدین کی جانب دیکھا کرتی تھی، وعدے پورے کرنے میں اس کی ناکامی کی وجہ سے مایوس ہو چکی ہے، اور انتہاپسندی والے تشدد سے متنفر ہو گئی ہے۔
مظفر احمد ڈار، حزب المجاہدین کے ایک سابق آپریشنل کمانڈر، جو اب عسکریت پسندی سے منسلک واقعات میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، نے خبر ساؤتھ ایشیاء کو اپنے تبصرے میں بتایا، "اس احساس کا نتیجہ مایوسی کی صورت میں نکلا کہ اپنی طاقت کے عروج پر بھی حزب المجاہدین وہ کچھ حاصل نہ کر پائی جو اس نے ٹھانا تھا – وہ تھا ہندوستان سے علیحدہ کشمیر۔"
دہشت گرد گروہوں کے ایک پاکستانی ماہر، علی کے چشتی کے مطابق، انتہاپسندی کا خطرہ بھی مزید منتشر ہو گیا ہے۔ انہوں نے فون پر خبر کو بتایا، "پاکستان کی طرف، حزب المجاہدین کے بہت سے عسکریت پسند دیگر دہشت گروہوں میں منتقل ہو گئے" جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نمایاں ہے۔
"حزب المجاہدین کے عسکریت پسندوں نے اب تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر لیے ہیں اور وہ تربیت اور کاروبار کے لیے باقاعدگی کے ساتھ قبائلی علاقوں کا سفر کرتے ہیں۔ ٹریفک یقیناً دو طرفہ ہے، کیونکہ پنجابی طالبان جنوبی پنجاب میں طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتے ہیں۔"
ہندوستان طویل عرصے سے پاکستان پر جنگجوؤں کی حکومتی سرپرستی کرنے کے الزامات لگاتا آیا ہے۔ مگر فرنٹ لائن رسالے میں مئی 2007 میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق، سرپرستی کی سطح گر گئی ہے کیونکہ پاکستانی حکومت کا طالبان کے ساتھ جھگڑا شدت اختیار کر گیا۔ رپورٹ کے مطابق، حزب المجاہدین کو دی جانے والی رقم "حزب المجاہدین کے سالانہ وعدوں پر پورا اترنے کے لیے بھی ناکافی ہے، اندازاً 27 ملین ہندوستانی روپے (484،000 ڈالر)، جو کہ ان عسکریت پسندوں کے خاندانوں کو دی جاتی ہے جو لڑائی میں مارے گئے"۔
یہ صلاح الدین، جو ہندوستانی کشمیر میں سید محمد یوسف شاہ کے نام سے پیدا ہوا، کے لیے تقدیر کا ایک مایوس کن موڑ ہے۔ اس کی قیادت میں، حزب المجاہدین برصفیر میں سب سے زیادہ خطرناک دہشت گرد تنظیم بن گئی تھی۔ مئی 1990 میں سرینگر کے ایک بڑے عالم، میر واعظ مولوی فاروق کو قتل کرنے سے لے کر 2004 میں جنوبی کشمیر میں ایک نیم فوجی دستے کو اڑا کر 33 لوگوں کی جان لینے تک، اس کے حربے مہلک اور بے تامل تھے۔
اسے اندرونی اختلاف رائے کو بھی تشدد سے دبانے کے لیے شہرت ملی۔ کشمیر میں اس کا چیف کمانڈر عبدالمجید ڈار، سنہ 2000 میں ہندوستان کے ساتھ ایک مشروط جنگ بندی کے معاملے پر صلاح الدین سے الگ ہو جانے کے بعد قتل ہو گیا تھا۔
1990 کے عشرے میں، اپنی طاقت کے عروج پر، اس گروہ نے کشمیر کے اندر اپنی ہمراہی جماعت اسلامی کی اکثریت کے ذریعے فنڈ اکٹھا کیا۔ مقامی لوگوں نے کھانا، کپڑے اور پناہ پیش کرتے ہوئے حزب المجاہدین کی مدد کی۔ اور ابھی تک حزب المجاہدین ہندوستان کو گھٹنوں پر نہیں جھکا سکی۔
ڈار نے کہا، "اب جبکہ ہندوستان معاشی اور عسکری طور پر مضبوط ہو چکا ہے، اکثریت کو کسی معجزہ ہونے کی توقع نہیں ہے۔ مگر بنیادی طور پر یہ خطے کی مجموعی جغرافیائی سیاست ہے جس نے عسکری تنظیم کو کمزور کیا ہے۔ اس گروہ کے پاس اتنے وسائل – سرمایہ اور انسانی – نہیں ہیں جتنے کہ ہوا کرتے تھے۔"
ڈار نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ صلاح الدین فنڈ اکٹھے کرنے اور نئے 'مجاہدین' بھرتی کرنے کے لیے پاکستان میں عوامی ریلیاں منعقد کروا رہا ہے۔
تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے
قارئین کے تبصرے
ganeshAugust 28, 2012 @ 06:08:54AM
بہت ہی اچھا پروگرام