ایک سابق سفیر کا کہنا ہے کہ ریاض یہ بات پوری طرح واضح کر کے دکھانا چاہتا ہے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
سعودی عرب دہشت گردی کے ایک ملزم کو ملک بدر کر چکا ہے اور اب ایک دوسرا ملزم منتقلی کے انتظار میں ہے، جس سے سعودی ہند انسداد دہشت گردی کا متحدہ محاذ مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
لشکر طیبیہ (ایل ای ٹی) کے مشتبہ رکن سید ذبیح الدین انصاری، عرف ابو حمزہ، کو سعودی عرب کی طرف سے ملک بدر کر دیے جانے کے بعد، جہاں وہ ایک سال تحویل میں رہے تھے، ماہ جون میں اندرا گاندھی انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر گرفتار کر لیا گیا۔
اب دہلی کو 35 سالہ فصیح محمود کی تحویل کی سپردگی کا انتظار ہے جو جلد ہی متوقع ہے۔ ان کے بارے میں شک ہے کہ وہ 2010 کے جامع مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث تھے۔ مشرقی ریاست بہار میں واقع دربھانگا سے تعلق رکھنے والے محمود کو سعودی عرب نے بھارت کے اصرار پر ماہ مئی سے اب تک زیر تحویل رکھا ہوا ہے۔ بھارتی ایڈشنل وکیل جنرل گوراب بنیرجی کے مطابق ان کے تحویل کی منتقلی کے کاغذات پر کام ہو رہا ہے اور وہ "مقررہ دورانیے میں" مکمل ہو جائیں گے۔
"ہم ان کے تعاون کے لیے سعودی حکومت کے مشکور ہیں،" وزیر برائے امور خارجہ ایس ایم کرشنا نے خبر ساؤتھ ایشیا کو بتایا۔ "وہ ایسے دہشت گردوں کا مقدمہ بھارت میں چلانے کے لیے جو ہمیں مطلوب ہیں، تمام بندشیں ہٹا رہے ہیں۔ وہ واضح طور پر اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ سعودی عرب دہشت گردوں کے لیے جائے امان نہیں بنے گا۔"
سابق وزیر برائے امور خارجہ جسونت سنگھ نے خبر کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کا یہ سخت رویہ نیویارک اور واشنگٹن، ڈی سی میں 11 ستمبر کو ہونے والے حملوں کے نتیجے میں ابھرا ہے۔
"گیارہ ستمبر کے بم دھماکوں میں ملوث 19 میں سے 15 ہائی جیکر سعودی شہری تھے،" سنگھ نے کہا۔ "اس افسوسناک حادثے کے بعد کے ماہ میں مجھے سعودی اور دیگر عرب اہلکاروں میں دہشت گردوں کے خلاف ایک نیا جذبہ نظر آیا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ، دوسری عرب ریاستوں کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات بھی سعودیوں پر اثر انداز ہوئے۔
"تحویل ملزمین کے باضابطہ معاہدے کی عدم موجودگی کے باوجود متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھارت کی درخواست منظور کرتے ہوئے (کولکتہ میں جنوری 2002 میں امریکن سنٹر پر ہونے والے ]دہشت گرد[ حملے کے بنیادی ملزم) آفتاب انصاری کو بھارت کے حوالے کر دیا تھا۔ چنانچہ سعودی یہ نہیں چاہیں گے کہ انہیں پیچھے رہ جانے والوں میں سے سمجھا جائے۔"
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارت اور سعودی عرب کے مابین تعاون کا آغاز 2002 میں ہوا تھا جب اس وقت کے ڈپٹی وزیر اعظم ایل کے اڈوانی نے ریاض کا دورہ کیا۔ تحویل ملزمین کے معاہدے کی تشکیل میں آٹھ سال لگ گئے اور وزیر اعظم من موہن سنگھ کے مارچ 2010 کے دورے کے دوران اس پر بالآخر دستخط کیے گئے۔
اس وقت وزیر اعظم سنگھ اور سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مشترکہ اعلان کیا۔ دفاع، سکیورٹی، اور توانائی سے متعلق دیگر معاہدات پر بھی دستخط کیے گئے۔
سابق بھارتی سفیر برائے سعودی عرب، عشرت عزیز نے خبر کو بتایا کہ مشرق وسطی کے اس ملک نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کس کی جانب ہے۔
"دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں سعودی عرب خود کو صف اول میں شمار کرتا ہے،" عزیز نے کہا۔ "وہ ایسا ہر شبہ مٹا ڈالنا چاہتے ہیں کہ چونکہ وہ ایک اسلامی ریاست ہے لہاذا وہ اسلامی بنیاد پرستی کے خلاف کسی تذبذب کا شکار ہے۔
"ان کی طرف سے یہ مسئلہ مکمل طور پر واضح ہے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں،" انہوں نے کہا۔
تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے