کشمیر کے زیادہ محفوظ اور پرامن ہوتے چلے جانے کے ساتھ نوجوانوں کی زیادہ بڑھتی ہوئی تعداد فوجی افسر بننے کے لیے درخواستیں بھر رہی ہے۔
رائے بدلنے کا یہ عمل شاید اس سے زیادہ حیران کن نہیں ہو سکتا تھا۔ کشمیری نوجوان جو بھارتی فوج کو کبھی قابل نفرین دشمن کے طور پر دیکھتے تھے اب جوق در جوق اس میں شامل ہو رہے ہیں۔
پانچ اگست کو وادی بھر سے سینکڑوں کی تعداد میں آئے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبا، سرینگر کے علاقہ سونوار میں فوج کے زیر انتظام چلنے والے سکول کینڈریا وڈیالیا کے سامنے قطار بند ہو گئے تاکہ علاقائی فوج ('ٹیریٹوریل آرمی،' ٹی اے) میں افسر بننے کے لیے درکار تحریری امتحان دے سکیں۔
"میں نے اچھی تیاری کر رکھی ہے اور امید ہے میں امتحان پاس کر لوں گا،" 27 سالہ نصیر احمد بھٹ نے خبر ساؤتھ ایشیا کو بتایا۔ "میرے والدین، رشتہ داروں اور دوستوں نے مجھے نیک خواہشات کے ساتھ بھیجا ہے۔ میری دلی تمنا ہے کہ میں فوجی افسر بنوں۔"
اوری بارہ مولا سے آئے، شعبہ آرٹس کے 26 سالہ گریجویٹ شمس الدین گوجری نے اچھی تیاری کی ہوئی تھی۔ "میں نے امتحان حل کرنے کے طریقے سیکھنے کے لیے خصوصی کلاسیں لی ہیں،" انہوں نے کہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج میں بھرتی ہونے کے اس نئے جوش و جذبے کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کی ایک وجہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے جس کے باعث اب نوجوانوں کی کوشش یہ ہے کہ جہاں کہیں مواقع میسر آئیں انہیں حاصل کریں۔
"اس وادی کے تعلیم یافتہ مگر بے روزگار نوجوان ہر حال میں نوکری تلاش کرنے پر مجبور ہیں،" کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سربراہ نور محمد بابا نے خبر کو بتایا۔ "فوج میں بھرتی ہونے کی خواہش رکھنے والے بہت سے امیدواروں کے لیے شاید یہ آخری راستہ بچا ہے۔"
اعلی تعلیم سے منسلک مزدوری اور روزگار کے وزیر عبدالغنی ملک نے کہا کہ یہ ایک "اچھی علامت" ہے کہ نوجوان بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ "اس سے وادی میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا مسئلہ حل کرنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی" انہوں نے خبر کو بتایا۔
کشمیر میں انتہا پسندوں کی پرتشدد کاروائیوں میں آنے والی کمی بھی اس میں کردار ادا کر رہی ہے۔ لوگوں نے اب اس علاقے کو دوبارہ پرامن سمجھنا شروع کر دیا ہے، جیسا کہ وادی میں آنے والے سیاحوں کی ازسرنو بڑھتی ہوئی تعداد سے ثابت ہے۔
"پرتشدد واقعات میں کمی آنے کے ساتھ علاقائی صورتحال میں پیدا ہونے والی قابل ذکر تبدیلی کے نتیجے میں اب نوجوان نوکری کے لیے فوج میں بھرتی ہونے کو محفوظ جان رہے ہیں۔ گزشتہ سالوں کی ہیجانی صورتحال اور بیلٹ فورس (سنٹرل ریزرو پولیس فورس، نیم فوجی دستوں، اور پولیس) کے ساتھ منسلک خطرات کے باعث نوجوان نوکری کے ایسے مواقعوں سے فائدہ اٹھانے سے گریز کیا کرتے تھے،" بابا نے وضاحت کی۔
علاوہ ازیں، بھارتی فوج کے بارے میں قائم نظریات میں بھی تبدیلی ظاہر ہو رہی ہے اور اب کشمیریوں کی زیادہ تعداد اسے امن بحال کرنے میں مددگار قرار دے رہی ہے۔
"فوج کی کارکردگی قابل ستائش ہے،" بوہی پورا کپواڑا سے آئے 30 سالہ پوسٹ گریجویٹ طالب علم محمد اشرف ملک نے خبر کو بتایا۔ "کوئی قوم تبھی سکون کی نیند سو سکتی ہے جب اس کے سپاہی سرحدوں پر دشمن کے خلاف اس کی حفاظت کر رہے ہوں۔"
انہوں نے جذبہ حب الوطنی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ "اگر میں ٹی اے افسر منتخب ہو جاؤں تو میرا خواب پورا ہو جائے گا۔ میں ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔"
تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے
قارئین کے تبصرے
Dhannjay chauhanDecember 15, 2012 @ 04:12:33AM
ہیلو میں دھانجے چوہان ہوں احمد آباد، گجرات سے میں ہندو چوہان ہوں اور میں نے دس جماعتیں پاس کی ہیں باون فیصد کے ساتھ، انگلش میں 60، سوشل سائنس میں60 فیصد، گجراتی میں 58، حساب 35 اور سائنس 48 اور آتار ہندی 70 فیصد، عملی امتحان میں 50/35 اور سوالات میں 50/38 اور مجھے بنیادی کمپوٹر، فوٹو شاپ ٹیلی کورل پاور پوائنٹ آتا ہے۔ میری عمر اٹھارہ سال ہے اور میرے باپ کا نام شری گوپی چوہان ہے اور میں ہندستانی فوج میں شمولیت اختیار کر رہا ہوں اور بی ایس ایف میں مجھے ہندوستانی فوج پسند ہے اور میں انڈین آرمی میں جانا چاہتا ہوں میرا موبائل نمبر8690448953 ہے میرا پتہ بارہ رمیشور پارک گھوکل ٹینا نزدیک آر ٹی او روڈ ویسٹرل روڈ احمد آباد گجرات380036ہے۔