ہندوستانی لڑکیاں کم عمری کی شادی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں

ہندوستان میں بچپن میں شادی ابھی بھی عام ہے، لیکن لڑکیوں نے اس عمل پر مزاحمت کرنا شروع کر دی ہے اور حقوق کے لیے کام کرنے والوں میں ان کے حمایتی بن گئے ہیں۔

اختر علی برائے خبر ساؤتھ ایشیاء کولکتہ

مئی 03, 2013
A زیادہ بڑا | زیادہ چھوٹا | ری سیٹ <span class="translation_missing">ur, articles, print</span> تبصرہ کریں

جب مغربی بنگال میں اس کے گاؤں کے سکول کے ہیڈ ماسٹر نے صبح اسمبلی کے دوران اسے چبوترے پر بلایا تو 15 سالہ رخسانہ خاتون پریشان نظر آئی۔

  • مغربی بنگال کی رہائشی، 15 سالہ رخسانہ خاتون نے اپنی شادی کرنے کی اپنی ماں کی پیشکش پر کامیابی کے ساتھ مزاحمت کی۔ اب اس کی ماں کو لگتا ہے کہ تعلیم جاری رکھتے ہوئے رخسانہ کا مستقبل روشن ہو گا۔ [شیخ عزیز الرحمان/خبر]

    مغربی بنگال کی رہائشی، 15 سالہ رخسانہ خاتون نے اپنی شادی کرنے کی اپنی ماں کی پیشکش پر کامیابی کے ساتھ مزاحمت کی۔ اب اس کی ماں کو لگتا ہے کہ تعلیم جاری رکھتے ہوئے رخسانہ کا مستقبل روشن ہو گا۔ [شیخ عزیز الرحمان/خبر]

ہیڈ ماسٹر نے کہا، "رخسانہ کی ماں نے حال ہی میں اپنی مرضی کے آدمی کے ساتھ اس کی شادی طے کر دی تھی۔ لیکن رخسانہ نے اپنی ماں کو اپنی شادی کے منصوبے منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس چھوٹی سی لڑکی نے حیران کن مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمیں اس پر فخر ہے۔"

ہیڈ ماسٹر کی جانب سے پوچھا گیا کہ اس نے اپنی شادی کے خلاف جانے کا انتخاب کیوں کیا، تو لڑکی نے کہا کہ وہ ایک نوآموز لڑکی کے طور پر خانگی زندگی میں داخل نہیں ہونا چاہتی جو دوسروں پر منحصر ہو۔

رخسانہ نے کہا، "میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں اور ایک باعزت ملازمت کرنا چاہتی ہوں۔ ہو سکتا ہے میں مستقبل میں شادی کروں – لیکن خود انحصار ہونے سے پہلے نہیں۔"

ایک مطلقہ ماں کی بیٹی، رخسانہ بنگال کے جنوبی 24 پاراگناز ضلع کے اراپاچ گاؤں میں ایک مثال بن گئی ہے کیونکہ اس نےبچپن میں دلہن بننے سے انکار کر دیا۔

رضامندی کے بغیر شادی

ہندوستان کے دیہاتی علاقوں میں والدین جب بیٹی کی شادی کرتے ہیں تو اس کی رضامندی شاذونادر ہی لیتے ہیں۔ رخسانہ کی طرح، مغربی بنگال میں کچھ لڑکیاں اس روایت کے خلاف بغاوت کر رہی ہیں۔

بچوں کی دیکھ بھال کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے خود اپنی طرف سے اکثر ایسی شادیوں سے نہیں بچ پاتے۔ بعض اوقات، وہ بچوں کے حقوق کے کارکنوں کی جانب سے مدد کے متلاشی ہوتے ہیں۔

ضرورت مند بچوں کے ادارے (سی آئی این آئی) کے ڈائریکٹر سمیر چودھری نے خبر ساؤتھ ایشیاء کو بتایا، "جب کوئی بچی اپنی شادی رکوانے کے لیے ہم سے رابطہ کرتی ہے، ہم والدین سے ملاقات کرتے ہیں اور انہیں وضاحت کرتے ہیں کہ یہ لڑکی کے لیے زیادہ مفید کیوں ہے کہ وہ کافی زیادہ پڑھنے اور خود انحصار بننے کے بعد شادی کرے۔" سی آئی این آئی مغربی بنگال کے بہت سے اضلاع میں بچوں کی شادی کے خلاف مہمیں چلاتی ہے۔

"بعض اوقات والدین ہماری بات پر کان نہیں دھرنا چاہتے اور اپنے بچوں کی جلد بازی میں شادی کر دینا چاہتے ہیں۔ پھر ہم پولیس، مقامی انتظامیہ اور علاقے کے معززین کو شادی رکوانے کے لیے والدین پر دباؤ بڑھوانے کے لیے ساتھ شامل کرتے ہیں۔"

سی آئی این آئی کے مطابق، گزشتہ تین برسوں میں مغربی بنگال میں بچوں کی کم از کم 200 شادیاں رکوائی جا چکی ہیں۔

چودھری نے مزید کہا چونکہ ملک میں بچوں کی زیادہ تر شادیاں بغیر رپورٹ ہوئے رہ جاتی ہیں، کارکن شادیوں کا محض "بہت کم حصہ" رکوا سکتے ہیں۔

بنیادی وجہ غربت

اقوامِ متحدہ کے آبادی فنڈ (یو این ایف پی اے) نے 2012ء میں رپورٹ دی کہ ہندوستانی قانون کے تحت، 18 سال سے کم عمر بچے شادی نہیں کر سکتے۔ پھر بھی ہندوستان کی بہت سی ریاستوں میں، تمام میں سے کم از کم نصف لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہو جاتی ہے۔

ہندوستان کے دیہات میں، جہاں ملک کی 70 فیصد آبادی رہتی ہے، دو تہائی سے زیادہ دلہنیں کم عمر ہوتی ہیں۔

مغربی بنگال میں بچوں کی فلاح و بہبود کمیٹی کے سربراہ، سراج الاسلام نے کہا، ناخواندگی اور غربت کم عمری کی شادی کا محرک بنتی ہے۔

اسلام نے خبر کو بتایا، "ان پڑھ دیہاتی اپنی بیٹیوں کو بوجھ کے طور پر دیکھتے ہیں اور جتنی جلدی ان کا بس چلے اس سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔ اکثر والدین یہ نہیں سمجھ سکتے کہ اپنی بیٹوں کو تعلیم دلوانے سے وہ اپنا مستقبل بہتر طور پر محفوظ کر سکتی ہیں۔"

"لڑکی کو موزوں طور پر تعلیم دینےکے لیے، والدین کو اضافی مالی استحکام کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا، غریب لوگ اکثر اپنی بیٹیوں کی تعلیم کو منقطع کرنے اور ان کی جلدی شادی کر دینے کا انتخاب کرتے ہیں۔"

رخسانہ کی ماں عذرا بیگم، جو بطور گھریلو ملازمہ کام کرتی ہے، کا کہنا ہے کہ اس کی بیٹی شادی کے منصوبے پر مزاحمت کرنے میں حق بجانب تھی۔

عذرا بیگم نے خبر کو بتایا، "چونکہ میں تقریباً ان پڑھ ہوں، اپنے خاوند کی جانب سے چھوڑ دیئے جانے کے بعد میری زندگی بہت دشوار رہی ہے۔ اگر میں نے اچھی تعلیم حاصل کی ہوتی مجھے کوئی اچھی ملازمت مل گئی ہوتی اور میری زندگی آسان ہو سکتی تھی۔"

"اگر میری بیٹی اب خود کو تعلیم سے اچھی طرح آراستہ کر لیتی ہے اور پھر اچھی ملازمت پر لگ جاتی ہے، وہ مضبوط ہو جائے گی اور اس کا مستقبل زیادہ محفوظ ہو گا۔ اب مجھے سمجھ آ گئی ہے۔ اگر میں اسے سکول سے اٹھا لیتی اور بیاہ دیتی تو میں ایک سخت فاش غلطی کرتی۔"

تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے

Apdf-ur

سروے

دولت اسلامیہ عراق و شام (آئی ایس آئی ایس) مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی۔

نتائج دیکھیں

تصویری مضمون


میمن سنگھ ہسپتال 109کلو میٹر ڈھاکہ کے شمال میں 8 دسمبر 2002کو لوگ ایک دھماکے میں ہلاک ہونے والے کی لاش دیکھ رہے ہیں۔ عید الفطر کا جشن منانے کے لئے اکٹھا ہونے والے کم ازکم بیس افراد ہلاک ہو گئے جب اسلام پسندوں کی جانب سے نصب کیے جانے والے چار بم چار مختلف سینما ہال میں پھٹے۔

عالمی دہشت کا خطرہ

القائدہ کے انتہا پسند، دولت اسلاميہ عراق و شام (آئی ایس آئی ایس)، جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی)، لشکر طیبہ (ایل ای ٹی)، نکسلائٹس (سی پی آئی۔ماؤسٹ) بھارت میں، صومالیہ میں الشہاب اور وسطی افریقہ میں بوکو حرام سب شہریوں کو دہشت زدہ کرنے کے لئے تشدد ک