سری نگر، بھارت: مقامی میڈیا کے مطابق، ایک ترجمان نے جمعرات (14 جون) کو کہا کہ پولیس نے لشکرِ طیبہ کے پانچ جنگجوؤں کو حراست میں لیا ہے جن پر مئی میں چاناپورا برج پر بم حملے کی کوشش کرنے والی اکائی کا حصہ ہونے کا شبہ ہے۔
وسطی کشمیر رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس افادل مجتبی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 17 مئی کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے منصوبہ شدہ آئی ای ڈی (امپرووائزڈ ایکسپلوسِو ڈیوائس) حملے کا مقصد عوام میں دہشت پھیلانا تھا۔
پولیس حملے کی اس کوشش کو اُس وقت روکنے میں کامیاب ہو گئی تھی جب وہ ہونے ہی والا تھا، انہوں نے پُل کے قریب ایک گاڑی میں لدا ہوا دھماکہ خیز مواد دیکھا اور کنٹرول شدہ دھماکے کے ذریعے اسے ناکارہ کر دیا۔
مجتبی نے مزید کہا کہ بم کے لیے مواد مقامی طور پر ہی تیار کیا گیا تھا اور بہت سی چیزیں روز مرہ کے استعمال کی تھیں، جیسے کہ دودھ کے دھاتی کین۔
مجتبی نے کہا، "اگرچہ آئی ای ڈیز اور ایسے کار بموں کا استعمال ایک نیا رجحان ہے، ہم اپنی طرف سے اسے ختم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں"۔
تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے