گواہاٹی، بھارت: اے ایف پی کے مطابق، اہلکاروں نے پیر (2 جولائی) کو کہا کہ پچھلے ہفتے بھارت کے شمال مشرق میں طوفانی مون سون بارشوں سے آنے والے سیلاب کی وجہ سے کم از ک 79 لوگ ہلاک ہو گئے ہیں اور 2.2 ملین لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔
ریاست آسام، جس کی سرحدیں بھوٹان اور بنگلہ دیش سے ملتی ہیں، دریائے برہم پترا کے بڑے پیمانے پر کناروں سے اُبل آنے کی وجہ سے بدترین طور پر متاثر ہوئی ہے۔ اسی دوران بڑے سیلاب نے ارونچل پردیش، منی پور اور میگھالیہ کی ریاستوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
آسام کی حکومت نے کہا کہ 27 میں سے 26 اضلاع کو سیلابی ریلوں کی مصیبت سہنا پڑی ہے جبکہ سخت بارشوں نے ہزاروں ناپائیدار گھروں کو تباہ، سڑکوں کو بلاک اور کھیتوں کو دلدلوں میں بدل دیا۔
وزیر اعظم منموہن سنگھ نے علاقے کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے دورہ کرنے کے بعد ریاستی دارالحکومت گواہاٹی میں کہا، "آسام کے لوگ حالیہ عرصے کے بدترین سیلاب کا سامنا کر رہے ہیں جس نے اچھا خاصا نقصان کیا ہے"۔
آسام کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ اندازے کے مطابق 2.2 ملین لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا، جبکہ ہزاروں گھر تباہ ہو گئے اور 5,00,000 سے زیادہ لوگ پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
آسام کے وزیر صحت ہیمانتا بِسوا سرما نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم نے بے گھر افراد کے لیے عارضی پناہ گزین کیمپ کھولے ہیں"۔
تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے