شمال مشرقی بھارت میں سیلاب سے 79 ہلاک، دو ملین بے گھر

جولائی 03, 2012
A زیادہ بڑا | زیادہ چھوٹا | ری سیٹ <span class="translation_missing">ur, articles, print</span> تبصرہ کریں

گواہاٹی، بھارت: اے ایف پی کے مطابق، اہلکاروں نے پیر (2 جولائی) کو کہا کہ پچھلے ہفتے بھارت کے شمال مشرق میں طوفانی مون سون بارشوں سے آنے والے سیلاب کی وجہ سے کم از ک 79 لوگ ہلاک ہو گئے ہیں اور 2.2 ملین لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔

ریاست آسام، جس کی سرحدیں بھوٹان اور بنگلہ دیش سے ملتی ہیں، دریائے برہم پترا کے بڑے پیمانے پر کناروں سے اُبل آنے کی وجہ سے بدترین طور پر متاثر ہوئی ہے۔ اسی دوران بڑے سیلاب نے ارونچل پردیش، منی پور اور میگھالیہ کی ریاستوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

آسام کی حکومت نے کہا کہ 27 میں سے 26 اضلاع کو سیلابی ریلوں کی مصیبت سہنا پڑی ہے جبکہ سخت بارشوں نے ہزاروں ناپائیدار گھروں کو تباہ، سڑکوں کو بلاک اور کھیتوں کو دلدلوں میں بدل دیا۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے علاقے کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے دورہ کرنے کے بعد ریاستی دارالحکومت گواہاٹی میں کہا، "آسام کے لوگ حالیہ عرصے کے بدترین سیلاب کا سامنا کر رہے ہیں جس نے اچھا خاصا نقصان کیا ہے"۔

آسام کی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ اندازے کے مطابق 2.2 ملین لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا، جبکہ ہزاروں گھر تباہ ہو گئے اور 5,00,000 سے زیادہ لوگ پناہ گزین کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

آسام کے وزیر صحت ہیمانتا بِسوا سرما نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم نے بے گھر افراد کے لیے عارضی پناہ گزین کیمپ کھولے ہیں"۔

اس مضمون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ (کل ووٹ: 0)

0 ناپسند

تبصرہ کریں (تبصروں کی پالیسی)* ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے

سروے

عوامی غم و غصہ کے بعد، ہندوستانی حکومت نے خواتین کے خلاف متشدد جرائم پر سزاوں کا جائزہ لینے کا وعدہ کیا۔ کیا قانون سازی کے حالیہ اقدامات ان جرائم سے نپٹنے کے لیے کافی ہیں؟.

نتائج دیکھیں

تصویری مضمون

   یہاں، وزیر برائے صنعت و تجارت رشاد باثی الدین (وسط میں) اور روایتی صنعت اور چھوٹے کاروبار کی ترقی کے وزیر ڈگلس دیوآنندا (دائیں جانب) 18 جنوری کو جافنا بین الاقوامی تجارتی میلہ برائے 2013 کا افتتاح کر رہے ہیں، جس کا مقصد اس علاقے میں ہونے والی معاشی بحالی کو تقویت دینا ہے جو ماضی میں میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ ]تصاویر از نیلوپل پیریرا/خبر[

ملک کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی کے منصوبے سری لنکا کی معیشت کے لیے باعث تقویت

سری لنکا میں 2009 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد اس ملک سمیت دیگر ممالک نے ملک کی معیشت اور اس کے بنیادی شہری و ملکی ڈھانچے کو بحال کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ سن 2011 تا 2012 کے دوران سری لنکا کے معاشی نمو کی شرح تمام جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔