لشکر طیبہ کی دہشت گردیاں

تصاویر از رائٹرز

2012-04-17

120418-let_essay6

نئی دہلی میں 13 دسمبر 2001 کو لشکر طیبہ کے ایک نامعلوم جنگجو کی لاش پارلیمان کی عمارت کے مرکزی دروازے کے سامنے ڈھکی ہوئی پڑی ہے۔ دن دھاڑے کیے جانے والے اس حملے میں لشکر طیبہ کے خود کش اسکواڈ نے عمارت پر دھاوا بول دیا۔ سیکیورٹی فورسز کی طر ف سے جنگجوؤں پر قابو پانے سے قبل ان کے ہاتھوں 12 لوگ ہلاک ہوئے۔ [اسٹرنگر/ رائٹرز]

لشکر طیبہ کے شدت پسندوں کے ہاتھوں ہونے والے نومبر 2006 کے ٹرین بم دھماکے کی شکار خاتون اپنے دو بچوں کے ساتھ بھارت کے شمال مشرقی شہر سیلیگوری سے 48 کلومیٹر (30 میل) کے فاصلے پر واقع جلپےگوری کے ایک ہسپتال میں علاج کی منتظر ہے۔ پورے بھارت میں مسافر ٹرینوں پر ہونے والے حملوں نے ریل اور سرحدی سیکیورٹی میں اضافہ کرنے پر مجبور کیا، جب کئی ٹرین بم دھماکوں میں 182 لوگ ہلاک ہوئے اور کم از کم 842 زخمی ہوئے۔ [روپک ڈی چوہدری/ رائٹرز]

اگست 2009 کی اس فائل فوٹو میں پولیس اہلکار محمد حنیف (درمیان والے) کو لے جا رہے ہیں۔ حنیف کو اگست 2003 میں ممبئی کے دو مربوط حملوں کی منصوبہ بندی کا مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔ ایک خصوصی عدالت نے تین لوگوں کو لشکر طیبہ کی طرف سے بھارت کےتجارتی ہب میں دھماکوں کے ایک سلسلے کی منصوبہ بندی کا مجرم پایا۔ [پُنیت پرانج پی/ رائٹرز]

6 نومبر، 2009 کو پولیس لشکر طیبہ کے مشتبہ رہنماؤں الامین الیاس سیفل (دائیں سے دوسرا)، مفتی ہارون اظہار (درمیان) اور شاہد الاسلام (بائیں سے دوسرا) کو ڈھاکہ کی عدالت میں لے جا رہی ہے۔ یہ تینوں مشتبہ لوگ پاکستانی دارالحکومت میں غیر ملکی سفارتخانوں پر حملے کے ایک دہشت گردانہ منصوبے سے متعلق ہونے پر بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ کے ایک مدرسے سے زیر حراست لیئے گئے۔ [اینڈریو براج/ رائٹرز]

بھارتی اہلکار مسافروں کی لاشوں کا جائزہ لے رہے ہیں جو لشکر طیبہ کے شدت پسندوں کی طرف سے چتراپتی شیواجی ٹرمینس (وکٹوریہ ٹرمینس) ریلوے اسٹیشن، ممبئی پر 26 نومبر، 2008 کو ہونے والے سفاکانہ حملے میں مارے گئے۔ بندوق برداروں نے ہوٹلوں، ہسپتالوں، ایک کیفے اور ریلوے اسٹیشن کو نشانہ بنایا جہاں انہوں نے لوگوں کو یرغمال بنایا اور انہیں قتل کیا اور کمرہ در کمرہ ایلیٹ کمانڈوز سے لڑائی لڑی۔ 166 سے زیادہ لوگ ہلاک اور 315 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ [رائٹرز]

29 نومبر، 2008 کو لشکر طیبہ کے جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والی مسلح لڑائی کے دوران بھارتی اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کا ایک رکن جلتے ہوئے تاج محل ہوٹل کے سامنے بھاگ رہا ہے۔ جب سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں پر قابو پایا، تب تک پورے شہر میں ہونے والے منظم حملوں میں 160 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے تھے۔ ایک امریکی شریک جرم ڈینئیل ہیڈلے کو بعد میں دہشت گردوں کی معاونت کا مجرم ٹھہرایا گیا جو اس نے لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کو علاقے کے بارے میں معلومات فراہم کر کے کی۔ وہ سمندری راستے سے کسی کے علم میں آئے بغیر وارد ہوئے اور قریبی ٹیکسیوں کے ذریعے اپنے اہداف پر پہنچے۔ [آرکو ڈاٹا/ رائٹرز]

پاکستانی سیکیورٹی اہلکار 11 دسمبر، 2008 کو کراچی میں جماعت الدعوہ کا دفتر سیل کر رہے ہیں۔ پاکستان نے اسلامی فلاحی تنظیم کو نگرانی میں رکھ لیا چونکہ اس نے اس تنظیم کو ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں کی ملزم تنظیم لشکر طیبہ کا فرنٹ گردانا۔ [اطہر حسین/ رائٹرز]

29 مارچ، 2009 کو ایک نیوز کانفرنس کے موقع پر بھارتی فوجی کھانا، گولہ بارود اور دوسری اشیاء دکھا رہے ہیں جو انہوں نے جموں کے شمال مغرب میں واقع ضلع راجوڑی کے باجی محل جنگل میں لشکر طیبہ کے جنگجوؤں سے بندوقوں کی لڑائی کے دوران چھینیں۔ دو جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔ [مکیش گپتا/ رائٹرز]

20 جولائی، 2011 کو جنوبی افغانستان کے صوبے ہلمند کے قصبے لشکر گاہ کا سیکیورٹی کنٹرول سنبھالنے کی تقریب کے دوران افغان فوجی اپنے کمانڈر کے سامنے کھڑے ہیں۔ صوبہ ہلمند کے دارالحکومت کے نزدیک لشکر طیبہ کی موجودگی اسے افغان فورسز کے حوالے کیے جانے والے سات علاقوں میں سب سے زیادہ پرتشدد علاقہ بنا دیتی ہے۔ [شامیل زوماتوف/ رائٹرز]

صوبہ ہلمند میں 29 فروری کو ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں زخمی ہونے والے کو آدمی ہسپتال پہنچا رہے ہیں۔ چھ لوگ زخمی ہوئے جب لشکر طیبہ کے ایک مشتبہ خودکش کار بمبار نے لشکر گاہ میں غیر ملکی فوجیوں کے ایک کانوائے پر حملہ کیا۔ [عبد الملک/ رائٹرز]

3 اپریل کو لاہور میں ایک پولیس افسر اور ایک نجی سیکیورٹی گارڈ لشکرطیبہ کے بانی اور جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کی رہائش گاہ کے باہر کھڑے ہیں۔ امریکہ نے حافظ سعید کو پکڑنے والے کے لیئے ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے، جن پر ممبئی میں 2008 اور نئی دہلی میں 2001 میں پارلیمان پر ہونے والے بے شرمانہ حملوں کی منصوبہ بندی کا شک ہے۔ [محسن رضا/ رائٹرز]

قارئین کے تبصرے

  • morshed November 11, 2012 @ 08:11:24AM

    مکس

  • jang thapa June 17, 2012 @ 02:06:17AM

    اے میرے خدا

  • pranav dixit June 8, 2012 @ 02:06:50AM

    یہ بہت افسوس ناک خبر ہے

  • mukesh June 7, 2012 @ 01:06:45AM

    یہ بہت سنجیدہ ہے

  • zameer patel June 6, 2012 @ 12:06:06PM

    یا خدا کیا یہ سچ ہے۔

  • eshan June 3, 2012 @ 08:06:32AM

    یہ بہت زیادہ ہے

  • neeraj May 30, 2012 @ 02:05:01AM

    اے میرے خدا یہ بہت نفرت انگیز ہے

  • md.saddam hossen prodhan May 29, 2012 @ 12:05:55AM

    اے اللہ، براہ مہربانی ان سب کو درست راہنمائی دے اور ہم سب کو شیطان کے ہاتھوں سے محفوظ رکھ (آمین)

  • priya rouniyar May 26, 2012 @ 04:05:50AM

    اس کے بارے میں کیا کہوں میں صرف خوف زدہ تھا

  • jeevan shripal May 26, 2012 @ 12:05:30AM

    یہ بہت سے لوگوں کی زندگیوں کا سب سے خطرناک واقعہ تھا۔ یہ خوف زدہ کرنے والا اور افسوس ناک واقعہ اور خبر ہے۔

  • vkvaid May 21, 2012 @ 12:05:11PM

    یہ عمل بزدلی سے بھرا ہوا ہے

  • Arzoo Sahdev May 20, 2012 @ 06:05:41AM

    مجھے بہت جھٹکا لگا جب میں نے یہ دیکھا

  • shailendra gachhadar May 16, 2012 @ 02:05:55AM

    نہیں، یہ بہت بری خبر ہے۔

  • ronju.nu.kushtia May 14, 2012 @ 02:05:39AM

    ہمارے لیے بہت افسوس ناک خبر ہے

  • sandeep humagain May 12, 2012 @ 04:05:39AM

    یہ بہت اداس کرنے والی خبر ہے

  • Md. Sajjad Hossain May 10, 2012 @ 03:05:48AM

    یہ بہت افسوس ناک ہے

  • taifur May 8, 2012 @ 06:05:28AM

    یہ بہت برا ہے، وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔

  • saiful alam May 5, 2012 @ 09:05:30AM

    یہ بہت دل دکھا دینے والا ہے

  • iman May 5, 2012 @ 03:05:43AM

    اف میرے خدا۔۔۔۔!!!!!!!! میں اس پر یقین نہیں کر سکتا!!!!!!!!!

  • shailedra May 1, 2012 @ 04:05:36AM

    بہت افسوس ناک

  • salahuddin April 29, 2012 @ 04:04:52PM

    یہ بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے۔ مجھے سخت حیرانگی ہے۔

  • Refai Nawfar April 29, 2012 @ 11:04:31AM

    معصوم جانوں کا نقصان ہوا، دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ رافیہ نوافر

  • md mamun April 28, 2012 @ 04:04:06PM

    یہ بہت افسوس ناک ہے۔

  • omar faruq April 26, 2012 @ 10:04:18PM

    یہ بہت برا ہے۔

  • mer sabber April 24, 2012 @ 09:04:39AM

    یہ بہت دردناک ہے,,,

  • ibrahim khalil April 24, 2012 @ 01:04:20AM

    یہ بہت افسوس ناک خبر ہے۔

*ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے