نئی دہلی میں 13 دسمبر 2001 کو لشکر طیبہ کے ایک نامعلوم جنگجو کی لاش پارلیمان کی عمارت کے مرکزی دروازے کے سامنے ڈھکی ہوئی پڑی ہے۔ دن دھاڑے کیے جانے والے اس حملے میں لشکر طیبہ کے خود کش اسکواڈ نے عمارت پر دھاوا بول دیا۔ سیکیورٹی فورسز کی طر ف سے جنگجوؤں پر قابو پانے سے قبل ان کے ہاتھوں 12 لوگ ہلاک ہوئے۔ [اسٹرنگر/ رائٹرز]
لشکر طیبہ کے شدت پسندوں کے ہاتھوں ہونے والے نومبر 2006 کے ٹرین بم دھماکے کی شکار خاتون اپنے دو بچوں کے ساتھ بھارت کے شمال مشرقی شہر سیلیگوری سے 48 کلومیٹر (30 میل) کے فاصلے پر واقع جلپےگوری کے ایک ہسپتال میں علاج کی منتظر ہے۔ پورے بھارت میں مسافر ٹرینوں پر ہونے والے حملوں نے ریل اور سرحدی سیکیورٹی میں اضافہ کرنے پر مجبور کیا، جب کئی ٹرین بم دھماکوں میں 182 لوگ ہلاک ہوئے اور کم از کم 842 زخمی ہوئے۔ [روپک ڈی چوہدری/ رائٹرز]
اگست 2009 کی اس فائل فوٹو میں پولیس اہلکار محمد حنیف (درمیان والے) کو لے جا رہے ہیں۔ حنیف کو اگست 2003 میں ممبئی کے دو مربوط حملوں کی منصوبہ بندی کا مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔ ایک خصوصی عدالت نے تین لوگوں کو لشکر طیبہ کی طرف سے بھارت کےتجارتی ہب میں دھماکوں کے ایک سلسلے کی منصوبہ بندی کا مجرم پایا۔ [پُنیت پرانج پی/ رائٹرز]
6 نومبر، 2009 کو پولیس لشکر طیبہ کے مشتبہ رہنماؤں الامین الیاس سیفل (دائیں سے دوسرا)، مفتی ہارون اظہار (درمیان) اور شاہد الاسلام (بائیں سے دوسرا) کو ڈھاکہ کی عدالت میں لے جا رہی ہے۔ یہ تینوں مشتبہ لوگ پاکستانی دارالحکومت میں غیر ملکی سفارتخانوں پر حملے کے ایک دہشت گردانہ منصوبے سے متعلق ہونے پر بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ کے ایک مدرسے سے زیر حراست لیئے گئے۔ [اینڈریو براج/ رائٹرز]
بھارتی اہلکار مسافروں کی لاشوں کا جائزہ لے رہے ہیں جو لشکر طیبہ کے شدت پسندوں کی طرف سے چتراپتی شیواجی ٹرمینس (وکٹوریہ ٹرمینس) ریلوے اسٹیشن، ممبئی پر 26 نومبر، 2008 کو ہونے والے سفاکانہ حملے میں مارے گئے۔ بندوق برداروں نے ہوٹلوں، ہسپتالوں، ایک کیفے اور ریلوے اسٹیشن کو نشانہ بنایا جہاں انہوں نے لوگوں کو یرغمال بنایا اور انہیں قتل کیا اور کمرہ در کمرہ ایلیٹ کمانڈوز سے لڑائی لڑی۔ 166 سے زیادہ لوگ ہلاک اور 315 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ [رائٹرز]
29 نومبر، 2008 کو لشکر طیبہ کے جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والی مسلح لڑائی کے دوران بھارتی اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کا ایک رکن جلتے ہوئے تاج محل ہوٹل کے سامنے بھاگ رہا ہے۔ جب سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں پر قابو پایا، تب تک پورے شہر میں ہونے والے منظم حملوں میں 160 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے تھے۔ ایک امریکی شریک جرم ڈینئیل ہیڈلے کو بعد میں دہشت گردوں کی معاونت کا مجرم ٹھہرایا گیا جو اس نے لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کو علاقے کے بارے میں معلومات فراہم کر کے کی۔ وہ سمندری راستے سے کسی کے علم میں آئے بغیر وارد ہوئے اور قریبی ٹیکسیوں کے ذریعے اپنے اہداف پر پہنچے۔ [آرکو ڈاٹا/ رائٹرز]
پاکستانی سیکیورٹی اہلکار 11 دسمبر، 2008 کو کراچی میں جماعت الدعوہ کا دفتر سیل کر رہے ہیں۔ پاکستان نے اسلامی فلاحی تنظیم کو نگرانی میں رکھ لیا چونکہ اس نے اس تنظیم کو ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں کی ملزم تنظیم لشکر طیبہ کا فرنٹ گردانا۔ [اطہر حسین/ رائٹرز]
29 مارچ، 2009 کو ایک نیوز کانفرنس کے موقع پر بھارتی فوجی کھانا، گولہ بارود اور دوسری اشیاء دکھا رہے ہیں جو انہوں نے جموں کے شمال مغرب میں واقع ضلع راجوڑی کے باجی محل جنگل میں لشکر طیبہ کے جنگجوؤں سے بندوقوں کی لڑائی کے دوران چھینیں۔ دو جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔ [مکیش گپتا/ رائٹرز]
20 جولائی، 2011 کو جنوبی افغانستان کے صوبے ہلمند کے قصبے لشکر گاہ کا سیکیورٹی کنٹرول سنبھالنے کی تقریب کے دوران افغان فوجی اپنے کمانڈر کے سامنے کھڑے ہیں۔ صوبہ ہلمند کے دارالحکومت کے نزدیک لشکر طیبہ کی موجودگی اسے افغان فورسز کے حوالے کیے جانے والے سات علاقوں میں سب سے زیادہ پرتشدد علاقہ بنا دیتی ہے۔ [شامیل زوماتوف/ رائٹرز]
صوبہ ہلمند میں 29 فروری کو ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں زخمی ہونے والے کو آدمی ہسپتال پہنچا رہے ہیں۔ چھ لوگ زخمی ہوئے جب لشکر طیبہ کے ایک مشتبہ خودکش کار بمبار نے لشکر گاہ میں غیر ملکی فوجیوں کے ایک کانوائے پر حملہ کیا۔ [عبد الملک/ رائٹرز]
3 اپریل کو لاہور میں ایک پولیس افسر اور ایک نجی سیکیورٹی گارڈ لشکرطیبہ کے بانی اور جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کی رہائش گاہ کے باہر کھڑے ہیں۔ امریکہ نے حافظ سعید کو پکڑنے والے کے لیئے ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے، جن پر ممبئی میں 2008 اور نئی دہلی میں 2001 میں پارلیمان پر ہونے والے بے شرمانہ حملوں کی منصوبہ بندی کا شک ہے۔ [محسن رضا/ رائٹرز]
قارئین کے تبصرے
تبصرہ کریں
مکس
اے میرے خدا
یہ بہت افسوس ناک خبر ہے
یہ بہت سنجیدہ ہے
یا خدا کیا یہ سچ ہے۔
یہ بہت زیادہ ہے
اے میرے خدا یہ بہت نفرت انگیز ہے
اے اللہ، براہ مہربانی ان سب کو درست راہنمائی دے اور ہم سب کو شیطان کے ہاتھوں سے محفوظ رکھ (آمین)
اس کے بارے میں کیا کہوں میں صرف خوف زدہ تھا
یہ بہت سے لوگوں کی زندگیوں کا سب سے خطرناک واقعہ تھا۔ یہ خوف زدہ کرنے والا اور افسوس ناک واقعہ اور خبر ہے۔
یہ عمل بزدلی سے بھرا ہوا ہے
مجھے بہت جھٹکا لگا جب میں نے یہ دیکھا
نہیں، یہ بہت بری خبر ہے۔
ہمارے لیے بہت افسوس ناک خبر ہے
یہ بہت اداس کرنے والی خبر ہے
یہ بہت افسوس ناک ہے
یہ بہت برا ہے، وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔
یہ بہت دل دکھا دینے والا ہے
اف میرے خدا۔۔۔۔!!!!!!!! میں اس پر یقین نہیں کر سکتا!!!!!!!!!
بہت افسوس ناک
یہ بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے۔ مجھے سخت حیرانگی ہے۔
معصوم جانوں کا نقصان ہوا، دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ رافیہ نوافر
یہ بہت افسوس ناک ہے۔
یہ بہت برا ہے۔
یہ بہت دردناک ہے,,,
یہ بہت افسوس ناک خبر ہے۔