"بانس کے سکولوں" کے ذریعے نیپال کے نوعمر افراد کو مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں

خبر ساؤتھ ایشیا کے لیے کھٹمنڈو سے، سورتھ گری

2012-06-21

120620-surath_np_bamboo2

جورپتی، کھٹمنڈو میں 2001 میں قائم کردہ، نیپال کے پہلے "بانس کے سکول،" سماتا سکشیا نکیتن میں طلبا جمع ہیں۔ یہ سکول جن کا نام ان کی تعمیر میں استعمال ہونے والے مواد پر رکھا گیا ہے، 100 نیپالی روپے (1.12 ڈالر) فی مہینہ سے کم فیس میں نیپال کے غریب نوعمر افراد کو اعلی معیار کی بنیادی اور ثانوی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ فی الحال یہ سکول 14 اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں، اور 30,000 سے زائد طلبا کو تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ ]فوٹو از سورتھ گری/خبر[

اڑتیس سالہ اتّم سنجیل (بائیں)، سکول کی سند برائے تکمیل تدریس ('سکول لیونگ سرٹیفکیٹ'، ایس ایل سی) کے امتحانات کے نتائج سنا رہے ہیں۔ کھٹمنڈو کے باسی، سنجیل نے، جو کبھی بالی وڈ اداکار بننے کے خواہش مند تھے، اس ملک کے تنازعات سے پر ایک دور میں بانس کا پہلا سکول قائم کیا تھا۔

طالبات سکول کے احاطے میں وہاں کرائی جانے والی دعاؤں میں مشغول ہیں۔ بانس کے سکولوں کا ایک غیر متوقع فائدہ یہ ہوا ہے کہ یہاں طلبا کی اکثریت لڑکیوں پر مشتمل ہے جس کے باعث لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کے مابین موجود فرق کو ایک ایسے ملک میں کم کرنے میں مدد ملے گی جہاں امتیازی سلوک کی بالادستی ہے اور والدین اپنے لڑکوں کو مہنگے نجی سکولوں میں بھیجتے ہیں جبکہ اپنی بیٹیوں کو سستے سرکاری سکولوں میں ڈال دیتے ہیں۔ بانس کے سکول اب طالبات کے لیے ایک بہتر متبادل کے طور پر موجود ہیں۔

دسویں کلاس کی ایک طالبہ اپنا ریاضی کا کام مکمل کر رہی ہے۔ سماتا سکشیا نکیتن کے سستا ہونے کے باوجود اس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی کارکردگی متاثر کن ہے۔ سن 2011 میں ایس ایل سی کے امتحانات میں بیٹھنے والے 120 طلبا میں سے 92 نے یہ امتحانات امتیازی نمبروں سے پاس کیے۔

سنجیل کا ارادہ ملک بھر کے تمام 75 اضلاع میں بانس کے سکولوں کو پھیلانے کا ہے۔ فی الحال طلبا کی اکثریت غریب خاندانوں سے ہے اور ان میں سے بہت سوں کے والدین کام کاج کی خاطر وطن سے باہر ہیں۔

عمارت پر آویزاں ایک تختی پر فعال معاونت کرنے والوں، مدن کرشنا شرستھا اور ہری بنشا اچاریہ کے نام اعزازی طور پر درج ہیں۔ نیپال کی نمایاں شخصیات بانس کے سکولوں کی معاونت کرتی ہیں اور انہیں فروغ دیتی ہیں اور کمروں کے نام ان کے ناموں پر رکھ کر ان کی اس امداد کو سراہا جاتا ہے۔

طلبا صبح کی اسمبلی میں شرکت کر رہے ہیں۔ ان سکولوں کے بانی سنجیل کا کہنا ہے کہ نیپال کے مستقبل کا دارومدار تعلیم یافتہ کم عمر نوجوان نسل پر ہے جو ملک میں قیام امن و استحکام کے بعد اس کی تعمیر نو کر سکے۔

سکول کے وقفے کے دوران دو چھوٹی بچیاں تصویر اتروانے کے لیے کھڑی ہیں۔

ایک چھوٹا بچہ اپنی جماعت کے کمرے سے اپنی کتابیں اٹھائے نکل رہا ہے۔

طلبا سکول میں کروائی جانے والی دعاؤں میں شرکت کر رہے ہیں۔ جورپتی کے سکول میں آجکل تقریباً 4,500 طلبا داخل ہیں اور 100 اساتذہ ملازمت کر رہے ہیں۔

قارئین کے تبصرے

  • linckon April 20, 2013 @ 01:04:52AM

    مسٹر اوتم آپ کا شکریہ

*ظاہر کیے گئے خانوں کی ضرورت ہے